حضرت سید یونس ابدال طیفوری مداری رحمۃ اللہ علیہ سلسلۂ عالیہ مداریہ کے جلیل القدر بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ اپنے عہد میں ابدالِ وقت کے منصب پر فائز تھے اور شاہجہان پور کے علاقے میں قیام پذیر رہے۔ آپ کی ذاتِ اقدس کشف و کرامات کی وجہ سے خاص و عام میں معروف و مشہور تھی اور آپ کے احوال اہلِ دل کے لیے باعثِ حیرت و ایمان تھے۔
آپ کے حالات و کمالات کا ذکر معتبر کتب میں ملتا ہے۔ بالخصوص کتاب بحرِ زخّار میں منقول ہے کہ حضرت سید یونس ابدال طیفوری مداری رحمۃ اللہ علیہ لودھی پور میں قیام فرمایا کرتے تھے۔ جب آپ وہاں سے شہر شاہجہان پور تشریف لے جاتے تو حیرت انگیز کرامت کا ظہور ہوتا۔ آپ عام طور پر کھڑاویں (لکڑی کی چپل) پہنے ہوئے ہی دریا میں اتر جاتے تھے، مگر پانی میں اترنے کے باوجود آپ کی کھڑاویں تر نہیں ہوتیں تھیں۔
اسی طرح ایک اور کرامت یہ بیان کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص کبھی سامان یا بوجھ اپنے سر پر رکھنے کا ارادہ کرتا تو وہ بوجھ حضرت کے سر کے اوپر معلق حالت میں ہوا میں ٹھہرا رہتا تھا۔ یہ منظر دیکھنے والوں کے لیے نہایت تعجب اور حیرت کا باعث بنتا تھا اور لوگ ان کرامات کو اللہ تعالیٰ کی خاص عطا اور حضرت کے بلند روحانی مقام کی دلیل سمجھتے تھے۔
حضرت سید یونس ابدال طیفوری مداری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال چار شعبان 1196 ہجری کو ہوا۔ آپ کا مزارِ مبارک لودھی پور میں واقع ہے، جو آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔
اہلِ عقیدت اور زائرین دور دراز علاقوں سے آپ کے مزار پر حاضری دیتے ہیں اور روحانی فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔
ماخوذ:
سیر المدار، صفحہ 136







