نام:
امام موسیٰ کاظم کا نام موسی ہے کنیت ابوالحسن اور القاب صابر ، صالح ، امین ، البتہ کاظم مشہور ہے ، کاظم کا عربی میں معنی ہے: "غصہ پینے والا ، اور آپ کو یہ لقب اس وجہ سے حاصل ہوا کہ آپ میں غصہ پینے کی صفت بہت ہی زیادہ تھی، جو لوگ آپ کے ساتھ زیادتی کرتے آپ ان کو معاف کر دیا کرتے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ ان کی زیادتی کے بعد بھی آپ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے رہتے، اور عمر بھر آپ کی یہ مبارک عادت رہی۔ شواہد النبوہ کے مطابق آپ نے حد سے بڑھنے والوں سے درگزر کیا۔
دن اور سن ولادت
امام موسیٰ کاظم کی پیدائش اتوار کے دن ہوئی۔ صفر المظفر کی نورا تیں گزر چکی تھیں اور سن 128 ہجری تھی ۔
مقام ولادت:
حضرت امام موسیٰ کی ولادت مقام ابواء پر جو مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ کے درمیان ہے، واقعہ ہوئی۔
حسب و نسب:
والد ۔ حضرت جعفر صادق بن محمد باقر بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ہے۔
والدہ ۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی والدہ ام ولد حمیدہ بربریہ تھیں۔ نسب کے لحاظ سے آپ قریشی ہاشمی علوی، اور نسبت کے اعتبار سے مدنی تھے۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے فضائل و مناقب سے کتابیں بھری پڑی ہیں۔ آپ اپنے زمانے کے بہت بڑے عبادت و گزار ، فقیہ بنی اور کریم تھے۔ آپ کی سیرت بیان کرنے والے تمام مصنفین نے آپ کے فضائل و خصائص کو بطور خاص ذکر کیا ہے، آپ اپنے زمانہ کے سب سے بڑے عبادت گزار ، سب سے بڑے عالم ، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ معزز انسان تھے۔ مسلمانوں کے صادق و معتمد امام تھے، اور عظیم المرتبت ہستی تھے۔ آپ اعلی درجہ کی عقل و سمجھ کے مالک اور عبادت و تقوی سے مزین تھے۔
علمی مقام:
نور الدين علي بن محمد بن أحمد ابن الصباغ المالكی کے مطابق : آپ اپنے دور کے سب سے بڑے عالم ہیں۔
آپ کے علمی مقام کا اندازہ اس مکالمہ سے بھی ہوتا ہے جو ہارون الرشید کے ساتھ پیش آیا۔ اس نے آپ سے پوچھا کہ تم کس طرح کہتے ہو کہ ہم رسول اللہ کی ﷺ کی اولاد ہیں، اور تم لوگوں کو بھی اپنے بارے میں ”اے رسول اللہ کے صاحبزادو!“ کہہ کر پکارنے کی اجازت دیتے ہو حالانکہ تم تو حضرت علی کی اولاد ہو؟ اور ضابطہ یہ ہے کہ آدمی کو اس کے باپ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے نہ کہ نانا کی طرف۔ اس کے جواب میں آپ نے اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھ کر یہ آیتیں تلاوت کیں:
وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَؕ-وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(84)وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَؕ-كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ
[ ال انعام : ۸۵،۸۴]
ترجمہ : اور نوح کو ہم نے پہلے ہی ہدایت دی تھی، اور ان کی اولاد میں سے داؤد سلیمان، ایوب، یوسف ، موسی اور ہارون (علیہم السلام) کو بھی۔ اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں ، اور زکریا، یحی عیسی اور الیاس (علیم السلام) کو بھی (ہدایت عطا فرمائی)۔ یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے ، کہ دیکھو! ان آیات میں اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے قرار دیا ہے حالانکہ حضرت عیسی کے تو کوئی والد ہی نہیں تھے ، ان کو صرف اپنی والدہ کی طرف سے اولاد انبیاء میں شامل کیا گیا ہے، بالکل اسی طرح ہمیں بھی ہماری والدہ (حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا) کی طرف سے نبی کریم کی ﷺ کی اولاد میں شامل کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد فرمایا: ہارون رشید! میں ایک دلیل اور آپ کو دیتا ہوں ۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے :
فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ-
[آل عمران : ۶۱ ]
ترجمہ: (اے میرے نبی! ان عیسائیوں سے) کہہ دیں کہ : آؤ، ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو ، اور ہم اپنے لوگوں کو اور تم اپنے لوگوں کو۔ اس مباہلہ میں حضور ﷺ نے عیسائیوں کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ تم اپنے بیٹے بلاؤ، میں اپنے بیٹے بلاتا ہوں ، چنانچہ آپ ﷺ نے اس میں بیٹوں کے طور پر صرف حضرت امام حسن حسین کو بلایا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت امام حسین آپ ﷺ کے بیٹے ہیں اور ہم حضرت امام حسین کے بیٹے ہیں، لہذا ہم بھی حضور ﷺ کے بیٹوں میں شامل ہوتے ہیں۔
علمی دلائل سے عیسائیوں کا اسلام قبول کرنا:
ملک شام میں ایک راہب (عیسائی عالم) رہا کرتا تھا جس کی عیسائی لوگ بڑی تعظیم و تکریم کرتے تھے اور ان کے ہاں وہ بڑا عالم شمار ہوتا تھا۔ وہ ہر دوسرے روز اپنے عبادت خانہ سے باہر آکر لوگوں کے مجمع میں بیان کرتا اور لوگ بڑی توجہ سے اس کی بات سنتے۔ ایک دن جبکہ اس کے بیان کا دن تھا حضرت امام کاظم بھی وہاں پہنچ گئے ، اس نے آپ کو دیکھ کر کہا: ارے! تم پر دیسی ہو؟ آپ نے فرمایا: ہاں!
راہب : تم ہم میں سے ہو یا ہمارے مخالفین میں سے ہو؟
امام کاظم : میں تم میں سے نہیں ہوں۔
راہب: تم "امت مرحومہ (یعنی حضور ﷺ) میں سے ہو؟
امام کاظم : ہاں !
راہب: اس امت کے عالموں میں سے ہو یا جاہلوں میں سے؟
امام کاظم : اس کے جاہلوں میں سے نہیں ہوں۔
یہ سن کر راہب متاثر ہوا اور کچھ ایسے مسائل پوچھنے کیلیے آپ کی طرف بڑھا جو اس کے نزدیک سب سے پیچیدہ تھے، اور کہا:
راہب: اس طوبی درخت کی کیا کیفیت و صورت ہے جس کی جڑ ہمارے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام اور تمہارے نزدیک حضرت محمد ﷺ کے گھر میں ہے اور اس کی ٹہنیاں ہر ہر امتی کے گھر تک پہنچتی ہیں؟ (سوال کا مقصود اس بات کی وضاحت مطلوب تھی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک چیز خود ایک ہی جگہ موجود رہے اور اس سے نکلنے والی چیزیں ہر ہر جگہ پہنچ جائیں)۔
امام کاظم: یہ بالکل ایسے ہے جیسے سورج ، کہ اس کی روشنی ہر ہر جگہ پہنچتی ہے حالانکہ وہ خود آسمان میں ہی ہوتا ہے۔
راہب: اس جنت کی کیا کیفیت ہے جس کے بارے میں آتا ہے کہ اس کا کھانا ختم نہیں ہوگا اگر چہ جنتی اس میں سے کھاتے رہیں گے۔ کھانے کے باوجود کیسے اس میں کمی نہیں آئے گی؟
امام کاظم : یہ ایسے ہے جیسے یہاں دنیا میں ”چراغ ، کہ وہ روشنی دیتا ہے، اس کی روشنی لوگ خرچ کرتے ہیں ، اس کے باوجود روشنی میں کمی نہیں آتی۔
راہب : جنت میں ظل ممدود (پھیلا ہوا سایہ) ہوگا، وہ کیا چیز ہے؟
امام کاظم : سورج طلوع ہونے سے پہلے جو ٹھنڈا میٹھا وقت ہے وہ ظل محدود ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:
اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّۚ-وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًاۚ-ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًا
[الفرقان: ۴۵]
ترجمہ: کیا تم نے اپنے رب ( کی قدرت کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح سائے کو پھیلاتا ہے؟ اور اگر وہ چاہتا تو اسے ایک جگہ ٹھہرا دیتا۔ پھر ہم نے سورج کو اُس کیلیے رہنما بنادیا ہے۔)
راہب: جنت میں رہنے والے لوگ کھائیں گے، پئیں گے، اس کے باوجود ان کو پیشاب، پاخانے کی حاجت نہیں ہوگی ، یہ کیسے ہوگا ؟
امام کاظم : یہ ایسے ہو گا جیسے ماں کے پیٹ میں بچہ۔
راہب : اہل جنت کے ایسے خدام ہوںگے جو اُن جنتیوں کے پاس اُن کے منہ سے بولے بغیر اُن کی مطلوبہ اشیاء حاضر کر دیں گے؟
امام کاظم : یہاں دنیا میں انسان کو جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی ہے تو اس کے اعضاء اس کو خود ہی سمجھ جاتے ہیں، ان کے خدام بھی اسی طرح سمجھ جائیں گے۔
راہب: جنت کی چابی سونے کی ہے یا چاندی کی؟
امام کاظم : جنت کی چابی انسان کا یہ بول ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
یہ سب کچھ سن کر راہب بولا : آپ نے سچ کہا، اس کے بعد راہب اور اس کے ساتھ جتنے لوگ تھے سب نے کلمہ پڑھ لیا اور مسلمان ہو گئے۔
حاضر جوابی:
ہارون الرشید حج کیلیے گیا تو حضور ﷺ کی قبر کی زیارت کیلیے حاضری دی ، اس کے ساتھ اشراف قریش اور مختلف ن سرداران قبائل بھی تھے۔ منضرت موسیٰ کاظم بھی ساتھ تھے۔ جب ہارون الرشید قبر اطہر کے قریب پہنچا تو اپنے ساتھ والے لوگوں پر فخر جتلانے کیلیے اس طرح سلام کیا : السلام علیک یا رَسول الله یا ابن عمی! "اے اللہ کے رسول ، اے میرے چچازاد بھائی! السلام علیکم! یعنی حضوری ﷺ کو اپنا چازاد بھائی کہا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کاظم قبر مطہر کی طرف بڑھے اور کہا: السلام علیک یا ابت! ”اے ابا جان! السلام علیکم!“۔
یہ سن کر ہارون الرشید کا رنگ فق ہو گیا اور آپ کو مخاطب کر کے کہنے لگا: اے ابوالحسن واقعی ، یہ ہے فخر کی بات۔
امام ابو حنیفہ سے ملاقات :
امام کاظم کی جب امام ابوحنیفہ سے پہلی بار ملاقات ہوئی تو ان سے فرمایا: کیا فقیہ "نعمان” آپ ہی ہیں؟ عرض کیا: جی ہاں! لیکن آپ نے مجھے کیسے پہچانا؟ امام کاظم نے جواب میں قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت کی :
سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ-
[الفتح:۲۹]
ترجمہ: اُن کی نشانیاں سجدے کے اثر سے اُن کے چہروں پر نمایاں ہیں۔
عبادت و ریاضت:
آپ "عبد صالح” کے خوبصورت لقب سے معروف تھے، حتی کہ آپ اپنے زمانہ کے سب سے بڑے عبادت گزار سمجھے جاتے تھے۔
عبادت کا یہ عالم تھا کہ کثرت سجود سے آپ کے گھٹنے ایسے سخت ہو گئے تھے جیسے اونٹ کے ہوتے ہیں۔ چناں چہ سجدوں کی ان کثرت کے سبب اپنے جد امجد امام زین العابدین کی طرح آپ بھی ”ذو الثفنات“ (یعنی سخت گھٹنوں والے) کے لقب سے یاد کیے جاتے تھے۔ جب نماز کیلیے اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے تو عجب کیفیت آپ پر طاری ہو جاتی ، آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات شروع ہو جاتی اور دل دھڑکنے لگتا ، اور یہی کیفیت اس وقت بھی ہوتی جب آپ اپنے رب سے مناجات اور دعاء میں مشغول ہوتے۔ آپ کی زبان ہر وقت اللہ کے ذکر میں چلتی رہتی تھی۔
ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ کودیکھا کہ اخیر شب میں سرسجدہ میں رکھا ہوا ہے اور عاجزی و انکساری کے یہ الفاظ لب پر جاری ہیں : ترجمہ اے میرے رب ! تیرے اس بندے کے گناہ بہت زیادہ ہو چکے ہیں ، اپنے فضل سے معاف فرمادیجئے۔
جب آپ کو جیل میں بند کیا گیا اس وقت بھی آپ کی شبانہ روز عبادت میں کوئی فرق نہ آیا، چناں چہ جس زمانہ میں آپ ہارون رشید کی طرف سے قید تھے اس وقت جیل میں آپ کی خدمت پر جو خاتون مامور تھی اس نے آپ کی عبادت کا چشم دید تذکرہ اس طرح بیان کیا: جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو رات گئے تک دعاء و اذکار میں مشغول رہتے ، پھر جب کافی رات گزر جاتی تو اٹھتے اور نوافل پڑھنا شروع کر دیتے یہاں تک کہ فجر کی نماز کا وقت ہو جاتا۔ نماز فجر ادا کرکے سورج نکلنے تک ذکر الہی میں مشغول رہتے ، اشراق سے فارغ ہو کر دن چڑھنے تک ( عبادت کیلے ) پھر وہیں بیٹھ جاتے۔ جب دن چڑھ جاتا تو مسواک وغیرہ کرتے اور کھانا تناول فرماتے ، اس کے بعد زوال تک قیلولہ کرتے۔ پھر ظہر سے لے کر عصر تک نوافل میں مشغول رہتے ، عصر کے بعد مغرب تک اذکار میں مصروف رہتے ، پھر مغرب اور عشاء کے درمیان بھی نوافل ادا کرتے ، انتقال تک یہی معمول رہا۔
سخاوت و ہمدردی:
امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے دور کے آپ سب سے سخی انسان تھے۔ اور عراق میں تو آپ "باب الحوائج” (حاجتوں کا دروازہ ) سے معروف تھے، کیونکہ آپ کے پاس جوبھی حاجت مند آ تا وہ کبھی خالی ہاتھ نہ لوٹتا۔ بلکہ آپ خود حاجتمندوں کو تلاش کرتے، فقرائے مدینہ کا تو خصوصی پتا لگاتے اور اس طریقہ سے پیسے اور سامان کی ضروریات ان کے گھر پہنچا آتے کہ ان کو پتا بھی نہ چلتا کہ یہ سب کچھ کہاں سے آیا ہے، آخر جب آپ کا انتقال ہوا تو پھر یہ راز فاش ہوا۔
ایک مرتبہ کسی غلام نے آپ کو ”حریرہ“ ( یعنی آٹے اور گھی سے تیار کردہ حلوہ ) ہدیہ کیا تو آپ نے وہ غلام ، اور زرعی زمین جس میں وہ غلام کام کرتا تھا، دونوں کو ان کے مالک سے ایک ہزار دینار (مساوی تقریباً پونے دو کروڑ روپے) میں خرید لیا پھر اس غلام کو آزاد کر دیا اور وہ زمین بھی اسی غلام کو دے دی۔
نوے سال کے بزرگ ابو مغیث قرظی کہتے ہیں : میں نے ”جوانیہ میں ام عظام” نامی کنویں کے پاس تربوز کھیرا اور کدو کاشت کر رکھے تھے۔ جب فصل تیار ہو گئی اور آمدنی کا وقت قریب آگیا تو ایک رات ٹڈیاں آئیں اور سارا کھیت چٹ کر گئیں، حالانکہ میں اس فصل اور اس میں کام کرنے کیلیے دو اونٹوں کی خریداری پر ایک سوبیس دینار خرچ کر چکا تھا۔ میں اسی پریشانی میں بیٹھا تھا کہ حضرت امام کاظم تشریف لے آئے، مجھے سلام کیا اور حال پوچھا۔ میں نے کہا: میں تو کنگال ہوکے رہ گیا ہوں ، رات ٹڈیاں آئیں اور میرا سارا کھیت صاف کر گئیں۔ انہوں نے پوچھا: اس میں تمہارا کتنا نقصان ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: دو اونٹوں کی قیمت بھی اگر شامل کر لیں تو کل ایک سوبیس دینار بنتے ہیں۔ انہوں نے مجھے ڈیڑھ سو دینار در دیے اور فرمایا: تیس دینار اور دو اونٹ ہماری طرف سے آپ کا نفع ہے۔
عجائب و غرائب کا صدور:
حضرت شفیق بلخی فرماتے ہیں کہ حج کے سفر کے دوران میں سرزمین قادسیہ میں جالگا۔ وہاں میں نے ایک خوبصورت اور بلند قامت نوجوان کو دیکھا جس نے پشمینہ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ کندھے پر ایک شملہ ڈالا ہوا تھا اور پاؤں میں نعلین تھے۔ وہ بہت سے انسانوں میں سے نکلتا ہوا ایک جگہ اکیلا آ کر بیٹھ گیا۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ یہ نوجوان طبقہ صوفیاء سے معلوم ہوتا ہے اور شاید چاہتا ہے کہ اس سفر میں مسلمانوں پر بار بن جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ میں اسے جاکر سرزنش کروں تاکہ وہ اس کام سے باز آجائے۔ جونہی میں اس کے نزدیک پہنچا تو اس نے کہا:
يا شفيق اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-
اے شفیق! اکثر کمان سے بچا کرو! کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ میں نے دل ہی دل میں خیال کیا کہ یہ عجیب بات ہوئی ہے۔ اس نے تو میرا نام اور مافی الضمیر کہہ دیا ہے یہ کوئی بے انتہا نیک آدمی ہے۔ مجھے اس سے معافی مانگنی چاہیے۔ میں نے ہر چند تیز چلنے کی کوشش کی لیکن اسے نہ پاسکا۔
دوسری منزل پر پہنچے تو میں نے اسے مشغول نماز دیکھا ، اس کے جسم پر لرزہ طاری تھا اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ میں نے پھر چاہا کہ اس سے معافی مانگو۔ تھوڑی دیر توقف کے بعد میں اس کی طرف چل دیا۔ اس نے کہا: اے شفیق ا یہ آیت پڑھو:
وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى
اور بے شک میں بخشنے والا ہوں تو بہ کرنے والوں کو اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے پھر ہدایت حاصل کرلی ہے یہ کہا اور مجھے چھوڑ کر چل دیا۔ میں سمجھا کہ یہ نوجوان ابدالوں میں سے ہے جس نے دو بار میرے دل کی بات بتا دی ہے۔
جب ایک اور جگہ پہنچے تو میں نے اسے ایک کنویں پر کھڑا دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چرمی ڈول تھا جس سے وہ پانی نکالنا چاہتا تھا لیکن وہ ڈول ہاتھ سے کنویں میں جا پڑا۔ اس نے آسمان کی طرف چہرہ کر کے کہا:
ان ربي اذا الظلمت الماء و قوتى اذا اردت اطعام اللهم سيد الى غيرها فلا تقديماً
راوی کہتا ہے:
اللہ کی قسم ! میں نے پانی کو اوپر آتے ہوئے دیکھا۔ اس نوجوان نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ڈول کو سطح آب سے اٹھالیا اور اس سے وضو کر کے چار رکعت نماز ادا کی، پھروہ ایک ریت کے ٹیلے کی طرف چل دیا اور اپنی مٹھی میں تھوڑی ہی ریت پکڑ کر اس ڈول میں ڈال دی۔ پھر اسے خوب بلایا اور پی گیا۔ یہ دیکھا تو میں اس کے پاس گیا اور السلام علیکم کہا۔ آپ نے وعلیکم السلام کہا۔ میں نے کہا: مجھے کھانا کھلائیے ، کیونکہ اللہ تعالی نے آپ کو بہت کچھ دے رکھا ہے ۔ اس نوجوان نے کہا: اے شفیق ہمیشہ اللہ تعالی کی ظاہر و باطن نعمتیں مجھے ملتی رہتی ہیں۔ اس لیے تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں نیک گمان رکھ۔
پھر اس نے مجھے وہی ڈول دیا جس میں سے میں نے پانی پیا۔ اس میں ستو اور شکر تھا۔ مجھے اللہ کی قسم ! ان سے شیریں اور لذیز چیز میں نے کبھی نہیں پی تھی۔ میں سیر و سیراب ہو گیا یہاں تک کہ چند دن تک مجھے اکل و شرب کی حاجت نہ رہی۔ اس کے بعد وہ مجھے نظر نہ آیا۔
جب مکہ معظمہ پہنچے تو میں نے ان کو تہجد پڑھتے ہوئے دیکھا۔ وہ نہایت خشوع و خضوع سے نماز پڑھ رہا تھا اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ یہ سلسلہ تمام رات جاری رہا۔ صبح ہوئی تو نماز فجر کے بعد طواف کرنے لگ گیا۔ طواف کر کے باہر چلا گیا۔ میں بھی اس کے پیچھے ہولیا۔ میں نے دیکھا کہ اب اس کے پاس کئی غلام اور خدام تھے اور لوگوں نے اس کو گھیر رکھا تھا اور کہہ رہے تھے: السلام عليك يا ابن رسول الله“ میں نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ حضرت موسیٰ بن جعفر بن محمد باقر بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ہیں۔ میرے منہ سے برجستہ نکلا: اس سید سے اس قسم کی عجیب و غریب باتوں کا صدور کوئی تعجب کی بات نہیں ۔
علی بن یقظین کی گدڑی:
ہارون الرشید نے علی بن یقظین کو نہایت عمدہ کپڑے عطا کیے، جن میں ایک گدڑی بھی تھی جو نہایت عمدہ ریشی کپڑے سے بنی ہوئی تھی۔ علی بن یقظینن نے اس کمال محبت کے سبب جو اسے حضرت موسیٰ کاظم سے تھی ان کپڑوں کے علاوہ بہت سی اور چیزیں ان کی خدمت میں بھیج دیں۔ حضرت موسیٰ کاظم نے تمام چیزیں قبول کر لیں، لیکن دو گدڑی واپس کر دی اور فرمایا: اسے سنبھال کر رکھنا تمہارے کام آئے گی۔
چند روز کے بعد علی بن یقظین اپنے کسی غلام پر سخت ناراض ہو گیا۔ غلام بھاگ کر ہارون الرشید کے ہاں پہنچ گیا۔ وہاں جا کر کہنے لگا: میرے آقا علی بن یقظین نے موسی کاظم کو اپنا امام تسلم کرلیا ہے اور اس کے لیے بہت سا مال و دولت بھیجی ہے، اس میں ایک گھوڑی بھی ہے جو آں جناب ہارون الرشید نے از راہ اعزاز و اکرام میرے آقا کو بھیجی تھی۔ ہارون الرشید نے سنا تو بہت آگ بگولا ہوا۔ اس وقت ایک گماشتہ بھیج کر علی بن یقظین کو بلایا۔ وہ دربار میں حاضر ہوا تو خلیفہ نے پوچھا: وہ گدڑی جو میں نے تجھے پہنائی تھی اس کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اے خلیفہ وہ تو میرے پاس ہی ہے۔ خلیفہ نے کہا: اسے حاضر کرو۔ اس نے غلام طلب کیا اور اسے کہا: فلاں گھر چلے جاؤ وہاں ایک صندوق ہے، فلاں کنیز سے اس کی چابی لے کر اس کا منہ کھولنا، اس میں سے ایک سر بمہر برتن نکلے گا، اسے لے آؤ۔”
غلام نے تھوڑی دیر بعد وہ برتن حاضر کر دیا ۔ الرشید نے اس کی مہر توڑنے کو کہا، جب اُسے کھولا گیا تو اسے وہی گدڑی نظر آگئی جسے اس نے خوب عطر گلاب میں بسا کر رکھا ہوا تھا۔ خلیفہ کی تسلی ہوئی تو اس کا غصہ بھی فرو ہو گیا۔ پھر کہا اسے وہیں پہنچادو اور خوش و خرم رہو! آئندہ میں کبھی تمہارے بارے میں کسی کے کہنے میں نہیں آؤں گا۔
گم شده طشتری:
ایک آدمی مدینہ منورہ میں مجاور تھا۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے ایک مکان کرایہ پر لے رکھا تھا اور زیادہ میں حضرت موسیٰ کاظم کی خدمت میں ہی رہتا۔ ایک دن سخت بارش ہوئی۔ میں نے خدمت میں حاضر ہونے کا لباس پہنا۔ جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو السلام علیکم کہا۔ آپ نے وعلیکم السلام کہا۔ پھر فرمایا: اے فلاں! ابھی اپنے گھر چلے جاؤ کیونکہ تمہارے گھر کی چھت تمہارے مال و اسباب پر گر گئی ہے۔ میں واپس آیا تو دیکھا کہ میرے گھر کی چھت بہہ گئی تھی۔ میں نے چند آدمیوں کو کرایہ پر لیا جنہوں نے میرا سامان نیچے سے نکالا۔ میری کوئی چیز سوائے ایک طشتری کے گم نہ ہوئی۔ اس سے میں وضو کرتا تھا، آپ کو پتہ چلا تو آپ نے چند لحوں کے لیے مراقبہ کیا، پھر فرمایا: میرا خیال ہے تم اسے کسی جگہ بھول گئے ہو۔ جاؤ! اپنی سرائے کے مالک کی کنیز سے پوچھو کہ میری طشتری تم نے تو نہیں اٹھائی۔ اگر اٹھائی ہے تو مجھے واپس دے دو۔ وہ جنہیں واپس دے دی گئی۔ میں نے واپس جا کر کنیز سے کہا: میں فلاں جگہ اپنی طشتری بھول گیا تھا تم آئی تھیں اور اٹھا کر لے گئی تھیں، وہ مجھے واپس کر دو تا کہ میں وضو کرلوں۔ وہ اسی حالت میں گئی اور لاکر پیش کر دی۔
کنگن کا پانی میں تیرنا:
اس مجاور کا بیان ہے کہ جب امام موسی کاظم کو بصرہ لے گئے تو میں مدائن کے نزدیک آپ کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا۔ ہمارے عقب میں بھی ایک کشتی تھی جس میں ایک عورت تھی۔ جس نے اپنے خاوند سے سہاگ رات منائی تھی۔ اچانک اس کشتی سے شوروغوغا سنائی دیا۔ آپ نے پوچھا: یہ کیسا شور ہے؟ میں نے عرض کیا: کشتی میں دلہن جارہی ہے۔ ایک گھنٹہ گزرا تو پھر شور سنائی دیا۔ آپ نے پوچھا: یہ آہ و فنان کیسی ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: کشتی میں بیٹھی ہوئی دلہن نے دریا سے تھوڑا سا پانی لینا چاہا تواسکا طلائی کنگن پانی میں گرگیا ہے اوروہ رو رہی ہے۔ آپ نے فرمایا: کشتی کا خیال رکھنا۔ لوگوں نے آپ کے حکم کی تعمیل کی۔ نیز آپ نے کہا: اس کشتی کے ملاح سے بھی کہہ دو کہ کشتی کو بحفاظت رکھے۔ کشتی کنارے پر لگی تو آپ نے زیر لب کچھ پڑھنا شروع کیا۔ پھر ملاح سے فرمایا : وہ لنگوٹا باندھ کر پانی میں کو دے اور کنگن کو پکڑ لے۔ ہم نے دیکھا کہ کنگن سطح آب پر آگیا اور ملاح نے پانی میں کود کر کنگن کو پکڑلیا۔
دینار کا الگ ہونا:
ایک دوسرے راوی کا بیان ہے کہ ہمارے ساتھیوں میں سے ایک کے پاس ایک سو دینار تھے جو اس نے مجھے دیئے تاکہ میں حضرت امام موسیٰ کاظم کی خدمت میں پیش کروں۔ میرے پاس بھی ایک چیز تھی ، جب میں مدینہ پہنچا تو نہانے دھونے کے بعد میں نے اپنی چیزوں کو صاف کیا اور ایک شخص سے مشک وغیر و لےکر ان پر چھڑکا۔ پھر جب میں نے اس شخص کے مال کو گنا تو ننانوے دینار لکھے۔ دوبارہ گنا تو اتنے ہی تھے لہذا ایک دینار میں نے اپنے پاس سے ان میں ملا دیا۔ رات ہوئی تو میں آپ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: میری جان آپ پر قربان ہو۔ میرے پاس کچھ رقم ہے جس سے قرب الہی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: لے آؤ۔ میں اپنے دیناروں کو آپ کی خدمت میں لے گیا اور عرض کیا: آپ کے ایک غلام نے بھی مجھے ایک چیز دی ہے۔ آپ نے فرمایا: لے آؤ۔ میں نے تھیلی پیش کی تو آپ نے فرمایا: زمین پر رکھ دو۔ میں نے رکھ دی۔ جونہی آپ نے اپنا دست اقدس اس پر پھیرا تو میرا دینار علیحدہ ہو گیا۔ پھر آپ نے فرمایا: مجھے وزن پر اعتبار ہے۔ عدد پر نہیں۔
زاد راہ میں برکت:
ایک راوی کا بیان ہے کہ علی بن یقظین اور ایک اور صاحب نے مجھے کہا:
فلاں آدمی کے ساتھ کو فہ جاؤ اور وہاں سے دو سواریاں خرید کر یہ خط اور یہ مال حضرت موسیٰ بن جعفر کی خدمت میں پہنچا دوں۔ میں کوفہ میں گیا اور اس شخص کے ہمراہ دو سواریاں خریدیں۔ مدینہ منورہ کے نزدیک پہنچے تو ایک جگہ قیام کر کے کچھ کھانا شروع کر دیا۔ اچانک ہماری نظر حضرت موسی بن جعفر پر پڑی جو ایک خچر پر سوار آ رہے تھے۔ ہم ادبا کھڑے ہو گئے اور آپ کی خدمت اقدس میں سلام کیا۔ آپ نے فرمایا: تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے لے آؤ۔ ہم نے سب کچھ پیش کر دیا اور پھر وہ خط بھی آپ کو دے دیا۔ آپ نے کچھ خط اپنی آستین سے نکالے اور فرمایا: یہ تمہارے خطوط کے جواب ہیں۔ بہ امان الہی واپس چلے جاؤ۔
میں نے عرض کیا: ہمار زاو راہ ختم ہو چکا ہے۔ آپ اگر اجازت دیں تو رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کے روضہ انور کی زیارت کرنے کے بعد زاد راہ بھی لے لیں ۔؟ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس تو شہ میں سے کچھ باقی ہے؟ ہم نے عرض کیا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ۔ ہم نے حاضر کر دیا۔ آپ نے اسے ہاتھ میں لے کر فرمایا: یہ زاد راہ تمہارے لیے کوفہ تک کافی ہے۔ تم بہ امان الہی واپس چلے جاؤ۔ آپ کے ارشاد کے مطابق ہم واپس لوٹ آئے اور وہ زاد راہ کوفہ میں آکر بھی باقی بیچ رہا۔
نصائح:
ان حضرات اہل بیت کی ہستیاں علم وعمل کا مجموعہ اور زہد وتقویٰ کا مجسمہ تھیں، چناں چہ ان کی نصیحت و ارشادات اپنے اندر ایک حقیقی روح اور منفرد اثر سموئے ہوتی تھیں۔ ذیل میں ان میں سے چند روح پرور نصائح درج کی جارہی ہیں:
(۱) یہ انصاف نہیں ہے کہ دو آدمی کسی جرم میں شریک ہوں پھر اس میں طاقتور کو تو چھوڑ دیا جائے اور کمز ور کوسزادی جائے۔
(۲) دشمن سے دور ہو اور دوست کے ساتھ بھی احتیاط سے رہو کیونکہ دل کا کوئی پتا نہیں کہ کس وقت بدل جائے۔
(۳) آپ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ موت کی تمنا کر رہا تھا۔ آپ نے اس سے پوچھا : کیا تمہارے اور اللہ کے درمیان کوئی ایسا تعلق ہے کہ جسکی وجہ سے اللہ تمہارے ساتھ آسانی و نرمی والا معاملہ فرمائے؟ اس نے کہا: نہیں۔ پھر پوچھا: کیا تم نے اتنی نیکیاں آگے بھیج دی ہیں جو تمہارے گناہوں سے بڑھ جائیں؟ کہا: نہیں۔ فرمایا: پھر تم اپنی دائمی ہلاکت کی تمنا کر رہے ہو۔
(۴) جس کے دونوں دن برابر ہوں وہ دھوکے میں پڑا ہوا ہے اور جس کا دوسرا دن پہلے دن کی نسبت برا ہو اس سے اللہ کی رحمت دور ہو چکی ہے۔
(۵) جو اپنے اندر بہتری اور ترقی محسوس نہ کرے وہ نقصان میں ہے اور جو نقصان میں ہو اس کیلیے جینے سے مر جانا بہتر ہے۔
(آپکے والد گرامی سے مروی) حق بات ہی کہنا خواہ تمہارے موافق ہو یا مخالف ، قرآن کی تلاوت کرنا، سلام کو عام کرنا، نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنا ، توڑنے والے سے جوڑنا، مانگنے والے کو عطا کرنا ، اور چغل خوری سے بچنا کہ یہ دلوں میں بغض و عداوت پیدا کرتی ہے۔
قید میں وفات کی خبر :
ایک شخص کی روایت ہے کہ جب حضرت موسی کاظم کو ظیفہ مہدی نے پہلی بار بغداد میں طلب کیا تو آپ نے مجھے ضروریات زندگی بازار سے خرید لانے کو کہا۔ جونہی آپ کی نظر انتخاب مجھ پر پڑی تو آپ نے مجھے بہت مغموم و پریشان دیکھا۔ فرمایا: اے فلاں! کیا بات ہے؟ تم پریشان نظر آتے ہو؟ میں نے کہا: مغموم و محزون کیوں نہ ہوں؟ آپ ایک ایسے ظالم کے پاس جا رہے ہیں جس کے پاس جانے کا انجام معلوم نہیں کیا ہوگا۔ آپ نے فرمایا: کوئی ڈر نہیں۔ میں فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو واپس آجاؤں گا۔ لہذا تم اول شب میرا انتظار کرنا۔
میں نے اس دن سے شب و روز شمار کرنا شروع کر دیئے۔ روز موعود آیا تو میری انتظار کشی کوئی رنگ نہ لائی۔ آفتاب غروب ہوگیا لیکن مجھے کوئی شخص آتا ہوا دکھائی نہ دیا۔ میرے دل میں شیطان لعین نے وسوسے ڈالے۔ میں ان وسوسوں سے بہت ڈرا اور مجھ پر ایک عظیم اضطراب غالب آگیا۔ ناگاہ مجھے عراق کی طرف سے ایک تاریکی نظر آئی اور جناب موسیٰ کا ظلم اس تاریکی کے آگے آگے ایک خچر پر سوار یہ آواز دے رہے ہیں:
اے فلاں! اے فلاں!” میں نے کہا: اے ابن رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا: قریب تھا کہ تم وہم و گمان میں پڑ جاتے۔ میں نے عرض کیا: بالکل حضور یہی بات تھی۔ پھر میں نے کہا: الحمد اللہ! آپ کو اس ظالم سے خلاصی حاصل ہوئی۔ آپ نے فرمایا: وہ ایک بار اور مجھے بلائے گا لیکن اس دفعہ مجھے خلاصی حاصل نہ ہوگی۔
پہلی قید اور اس سے نجات:
امام موسیٰ کاظم کو پہلی بار مہدی بن منصور کے حکم سے بغداد لا کر محبوس کیا گیا۔ ایک رات مہدی نے حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہ کو خواب میں دیکھا۔ آپ فرمارہے تھے:
فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ
ربیع کہتے ہیں کہ ابھی کچھ رات باقی تھی کہ اس نے مجھے بلایا۔ میں گیا تو سنا کہ وہ مذکورہ بالا آیت کو خوش الحانی سے پڑھ رہا تھا۔ پھر مجھ سے کہنے لگا: ابھی جا کر موسیٰ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لے آؤ۔ میں نے تعمیل حکم کی اور آپ کو لے آیا۔ خلیفہ مہدی نے ان سے معانقہ کیا اور اپنے پاس بٹھا کر اپنی خواب سنائی۔ پھر کہا : کیا آپ یہ نہیں کر سکتے کہ آپ میرے اور میرے بچوں کے خلاف بغاوت نہ کریں ۔؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم میرا تو کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی یہ بات مجھے زیب دیتی ہے کہ میں ایسا کروں۔
مہدی بولا: بالکل درست ہے۔ پھر اس نے ربیع سے کہا: ان کو دس ہزار دینار دے دو اور سامان سفر بھی تیار کر دو تا کہ آپ مدینہ چلے جائیں۔ ربیع کہتے ہیں: ہم نے راتوں رات تمام ہندو بست کر دیا اور انہیں الوداع کہنے کے لیے ساتھ گئے تاکہ کوئی شخص آپ کی مزاحمت نہ کرے۔ چنانچہ آپ بخیر و عافیت مدینہ پہنچ گئے۔
دوسری بار قید:
خلیفہ نے دوسری بار امام موسیٰ کا ظلم کو مدینہ منورہ سے بغداد بلایا اور محبوس کر دیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ جیل کے اندر زہر دیے جانے سے آپ کا انتقال ہوا یعنی شہادت کی موت آپ کو نصیب ہوئی۔ اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ ہارون الرشید آپ کو مدینہ سے بغداد لے آیا اور جیل میں قید کر دیا ، ایک مدت تک آپ جیل میں رہے۔ کہا جاتا ہے کہ یحییٰ خالد برمکی نے ہارون الرشید کے حکم سے کھجوروں میں زہر ملا کر امام موسی کاظم کو کھلائی تھیں جس سے آپ کی شہادت واقع ہوئی۔
اپنی وفات اور زہر کے بارے میں خبر دینا:
آپ سے مروی ہے کہ جب انہیں زہر دی گئی تو فرمایا: مجھے آج زہر دے دی گئی ہے اور کل میرا بدن زرد ہو جائے گا۔ پھر نصف بدن شرخ ہو جائے گا، پھر سیاہ ہو جائے گا۔ اس کے بعد میں فوت ہو جاؤں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا جیسا آپ نے کہا تھا۔
یوم وصال:
امام موسیٰ کاظم بروز جمعۃ المبارک مطابق ۲۵ رجب المرجب ۱۸۶ ہجری میں ہارون الرشید کی قید میں فوت ہوئے۔
مزار:
امام موسیٰ کاظم کی قبر بغداد میں ہے۔
☆☆☆
مرتبہ : غلام فرید حیدری مداری
ماخوذ و مصادر :
اہلبیت روشن ستارے
گلدستہ اہلبیت
شواہد النبوه






