۲۲ رجب میں ، کونڈے کی نیاز کی حقیقت کچھ اس طرح ہے
سب سے پہلے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ کونڈوں کی نیاز کا مطلب کیا ہے؟
خوب جان لیجیے کہ نیاز کا مطلب ایصالِ ثواب ہے یعنی ۲۲ رجب المرجب کی تاریخ میں کھیر بنا کر مٹی کے کونڈوں میں رکھ کر حضرت سیدنا سید السادات ابو الائمہ امام جعفر الصادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں فاتحہ پڑھ کر ایصال ثواب کرنے کا نام کونڈوں کی نیاز ہے۔
سب سے پہلے فتاوی دار العلوم دیوبند میں علماء و مفتیان دیوبند نے اپنے اپنے فیس بک اور گوگل اور انسٹا گرام اور میسینجر پر یہ شگوفہ چھوڑا کہ یہ نیاز ۲۲ رجب میں نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ شیعہ فرقہ کے لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ۲۲ رجب میں وصال ہونے پر خوشیاں منانے کے لئے اسی ۲۲ تاریخ میں کھیر پکا کر کونڈوں میں رکھ کر نیاز کرتے ہیں لہذا مسلمانوں کو یہ نیاز نہیں کرنا چاہیے۔
یہ علمائے دیوبند کی طرف سے لوگوں کو اہل بیت کے مشاغل و معمولات سے منحرف کرنے کا ایک پروگرام ہے۔ علمائے دیوبند کی ناصبیت مزاجی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اسی روش پر عطاری علماء بھی اچھل کو دمچا رہے ہیں اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر اہل سنت کے مابین مروج معمول کے خلاف نیا نظریہ پیش کر رہے ہیں۔
اور وہ جو ان عطاریوں کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں وہ ۲۲ رجب سے پہلے ۱۵ رجب میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر دکھاوا کرتے ہیں۔ ان کے لیے ان شاء اللہ میں عنقریب ایک ایسی لسٹ پیش کروں گا جس میں ۲۲ رجب میں کونڈے کرنے والے علمائے اہلسنت کی ایک طویل فہرست ہو گی۔ اور عطاریوں کے ساتھ کھچڑی کھانے والوں کی ایک الگ لسٹ ہو گی۔
پہلے میں ایصال ثواب اور ۲۲ رجب کے کونڈوں کی نیاز پر بہترین فتاوے ہدیۂ ناظرین کر رہا ہوں۔
مفتی اعظم اور دار الافتاء بریلی شریف کافتوی
چنانچہ مولانا مفتی عبد الرحیم بستوی جو ایک طویل مدت تک مسند دار الافتاء بریلی شریف پر بحیثیت مفتی فائز رہے آپ ۲۲ رجب میں کونڈوں کی نیاز سے متعلق ایک استفتاء کے جواب میں ایک فتویٰ دیتے ہیں جس کی نقل من و عن ہدیہ ناظرین ہے:
”فاتحہ کی اصل ایصال ثواب ہے اور ایصال ثواب اہلسنت کے نزدیک جائز و مستحسن ہے اور ثواب پہنچتا ہے کتب فقہ و عقائد میں تصریح ہے کہ اپنے اعمال خواہ بدنی ہوں یا مالی دوسروں کو ثواب پہنچانے سے انہیں ثواب ملتا ہے۔ اور اس کو بھی ملتا ہے اور کسی کے ثواب میں کمی نہیں ہوتی ، فقہ حنفی کی مشہور کتاب در مختار میں ہے :
الاصل أن كل من اتي بعبادة ماله ان يجعل ثوابها لغيره وان ثوابها عنده لفعل نفسه بظاهر الأدلة.
علامہ الشامی رد المحتار میں فرماتے ہیں:
ولا بعبادة ما اي سواء كانت صلاة اوصوما او صدقة او زكوة او ذكرا او طوافا او حجا أو عمرة او غير ذالك من زيارة قبور الأنبياء عليهم السلام و الشهداء والصالحين و تكفين الموتي وجميع انواع البر كما في الهندية وقدمنا في التاترخانية من المحيط الافضل لمن يتصدق نفلا ان ينوي لجميع المومنين و المومنات لأنها تصل ولا ينقص من أجره شئ”
اسی طرح ہدایہ ، نور الایضاح، مراقی الفلاح، شرح فقہ اکبر شرحا العقائد النسفیہ وغیرہ کتب معتبرہ میں ایصال ثواب کے جائز ہونے کی تصریح ہے ۲۲ رجب کو امام جعفر الصادق رحمۃ اللہ کا فاتحہ کرانا شرعاً جائز ہے۔ اور دوسرے بزرگوں کی بھی فاتحہ دلانا جائز ہے۔ کہ اصل جائز ہے اور باعث نفع و ثواب ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
کتبہ
عبد الرحیم بستوی خادم رضوی دار الافتاء بریلی شریف
الجواب صحیح
فقیر مصطفی رضا قادری غفر له
اس فتوے میں مفتی اعظم مصطفی رضا خان بریلوی کی تصدیق بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
مولانا اختر رضا خان بریلوی تاج الشريعه كافتوى
اپنے ہی بزرگوں کی پیروی کرتے ہوئے سلسلہ رضویہ کے تاج الشریعہ مولانا اختر رضا خان بریلوی اپنے فتاویٰ تاج الشریعہ جلد نہم میں لکھتے ہیں:
عوام میں ۲۲ رجب کا فاتحہ رائج و معمول ہے جس میں شرعاً کوئی مضایقہ نہیں ہے اور یہاں یہ بات بھی کچھ حرج کا باعث نہیں ہے کہ شیعہ اس تاریخ کو فاتحہ کرتے ہیں کہ افعال مباحہ و حسنہ میں مشابہت ہو جانا کچھ مضائقہ نہیں رکھتا۔۔۔ در مختار میں ہے:
فان التشبه بهم لا يكره في كل شيء بل في المذموم فيما يقصد به التشبه
اور اگر کوئی بے زعم مشابہت تاریخ مذکور کو کرے اختیار ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
فقیر اختر رضا خان از هری قادری غفر له
شب ۸ ذیقعدہ ۱۴۰۳ھ
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
الجواب صحیح
قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفر له القوى”
اب مرکز بریلوی کے اتنے صاف واضح مدلل فتووں کے بعد بھی اگر بریلوی رضوی علماء ۲۲ رجب المرجب میں کونڈوں کی نیاز سے انکار کریں اور پاکستانی عطاری ٹولے کے فریب میں آجائیں تو یہ ان کی بریلوی اماموں سے اور مسلک بریلویت سے بھی بغاوت ہو گی کہ نہیں ؟۔
اللہ ہدایت دے۔
۲۲ رجب کی فاتحہ سے آڑی ھوئی مصیبت ٹل جاتی ھے
ایک اور معتبر مفتی اہل سنت کے وقار مفتی احمد یار خان نعیمی یہ فرماتے ہیں:
رجب شریف کے مہینے کی ۲۲ تاریخ کو ہند و پاک میں کونڈے ہوتے ہیں یعنی کونڈے منگائے جاتے ہیں اور سوا سیر میدا، سوا پاؤ شکر اور سوا پاؤ گھی کی پوریاں بناکر حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ کرتے ہیں ۔ فاتحہ ہر برتن میں اور ہر کونڈے پر ہو جائے گی۔ اگر صرف زیادہ صفائی کے لئے نئے کونڈے منگالیں تو کوئی حرج نہیں، دوسری فاتحہ کے کھانوں کی طرح اسے بھی باہر بھیجا جا سکتا ہے۔ اس لئے کہ بائیسویں رجب کو حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ کرنے سے بہت اڑی ہوئی مصیبت ٹل جاتی ہے“ ( اسلامی زندگی صفحہ ۱۳۳/۷۵)
اتنی بڑی خوش خبری دی کہ ۲۲ رجب میں امام جعفر صادق کا فاتحہ دینے سے بہت اڑی ہوئی مصیبت ٹل جاتی ہے۔ اب پندرہ رجب میں کونڈے کرنے والے تو اس عظیم نفع سے محروم ہی رہ جائیں گے۔
خاندان اعلی حضرت کا معمول
”اسی طرح محدث پاکستان علامہ سردار احمد لائل پوری مفتی دار الافتاء دار العلوم مظہر اسلام بریلی شریف کہتے ہیں
مرکز اہل سنت بریلی شریف میں کہ خاندان اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی کے صاحبزادوں اور خانوادے کے افراد میں ۲۲ رجب کے کونڈے کی تقریب منائی جاتی ہے۔ (کونڈوں کی فضیلت بجواب کونڈوں کی حقیقت صفحہ ۱۰/۷)
واضح ہو کو کہ کونڈوں کی فاتحہ کوئی بریلوی ایجاد نہیں ہے، بلکہ یہ ایک امر مستحسن و معمولات اہل سنت والجماعت ہے قرنوں سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ چنانچہ ہر خانقاہ اہل سنت مثلا مکن پور شریف کانپور ، اجمیر شریف ، پاکپٹن شریف ، بہرائچ شریف ، کچھوچھہ شریف ، دہلی میں خانقاہ نظام الدین اولیاء اور خانوادہ شاہ ولی اللہ محدث و اولاد محدث عبد العزیز وہلوی اور وہاں کی ساری خانقاہوں میں اور کلیر شریف ، مارہرا شریف اور مخدوم بہار شریف اور وہاں کی دیگر خانقاہوں میں اور حسن پورہ شریف اور غوث بنگالہ علاء الحق کے آستانہ پر اور ہر سادات کے یہاں اور پاکستان کے جملہ سادات کرام کے یہاں ۲۲ رجب المرجب میں ہی امام عالی مقام حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فاتحہ ہوتا ہے۔
اور جب سے عطاری جماعت کا عروج ہوا ہے اور عرس حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رواج دینے کی کوشش کی جانے لگی ہے اور ان کے فاتحہ کی تشہیر کی جانے لگی ہے اس کے بعد ہی سے ۱۵ رجب میں نیاز امام جعفر صادق کو پیچھے ڈھکیلنے کی کوشش شروع ہو گئی ہے۔ جبکہ بزرگوں نے کہا ہے ۲۲ رجب میں نیاز دلانے سے بہت اڑی ہوئی مصیبت امام جعفر صادق کے صدقے ٹل جاتی ہے۔
مولانا خلیل احمد خان برکاتی نے بھی ۲۲ رجب کے کونڈوں کی فاتحہ کا ذکر صفحہ ۳۱۸ر پر کیا ہے۔
(سنی بہشتی زیور کامل)
۲۲ رجب المرجب میں هی نیاز کرنا معمول اهلسنت والجماعت ہے
پاکستان کے ایک اور بڑے مولانا ابو البرکات سید احمد قادری رضوی نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ گیارہویں شریف، عرس اور چہلم کی طرح ۲۲ رجب میں امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نیاز کیلئے کونڈے بھر نا معمولات اہلسنت میں سے ہے۔“
مفتی پاکستان جناب سید احمد قادری رضوی صاحب کی عبارت سے ناظرین نے ۲۲ رجب میں نیاز کرنے کو ضرور سمجھ لیا ہوگا اسی تاریخ میں یہ نیاز صدیوں سے رائج و معمول میں ہے۔
اور اخیر میں تحفۂ اثنا عشریہ کی ایک عبارت ہدیہ ناظرین کرتا ہوں جو متاخرین میں ان سارے مشاہیر علماء و مشائخ کی جماعت میں موثق و مقبول ہیں اور آپ ایسے محدث و مفسر ہیں کہ جن کی اسناد سے اس دور کے بزرگوں کی کوئی بھی خانقاہ محروم نہیں ہے۔
میری مراد بارہویں صدی کے مجدد اسلام حضرت علامہ محدث عبد العزیز دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں جن کی بارگاہ نیاز سے اسناد حدیث و تفسیر فقیر مداری ابو الحماد محمد اسرافیل حیدری المداری کو بھی چند وسائط سے پہونچی ہیں فللہ الحمد علی ذالک۔
”آپ فرماتے ہیں:
اہل بیت سے متعلقہ تقاریب و ایام جیسے ۲۲ رجب کو کونڈوں کی نیاز زمانہ قدیم سے ہوتی چلی آرہی ہے“ (تحفہ اثنا عشریہ )
ماشاء اللہ ثابت ہو گیا کہ ہر سادات گھرانے میں اور ہر پیر خانے میں اور ان کے مریدین و خلفاء کے یہاں اور محبان اہل بیت کے یہاں ۲۲ رجب المرجب کو کونڈے بھرے جاتے ہیں اور امام جعفر صادق علیہ السلام ورضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نیاز ہوتی ہے۔
وہ علمائے اھلسنت و محدثين كرام جن کے یہاں ۲۲ رجب کو امام کا نیاز هوتا ہے
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، اور ان کے شاگرد حضرت سید آل رسول مارہروی، حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑہ شریف، حضرت پیر سید کلب علی مکن پوری، حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی، حضرت محدث ا اعظم ہند کچھوچھہ شریف، اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھو چھ شریف، حضرت سید شیخ الہند ذو الفقار علی قمر مداری مکن پور شریف، حضرت سید پیر جماعت علی شاہ محدث بریلوی، مولانا احمد رضا خان صاحب، مفتی اعظم مصطفیٰ رضا خان بریلوی، مولانا احمد یار خان نعیمی، صدر الشریعہ امجد علی اعظمی گھوسوی، مولانا سید ابو البرکات احمد قادری رضوی، سید احمد سعید کاظمی، مولانا سردار احمد خان قادری، سید بابا ولی شکوہ مکنپوری اور مولانا اختر رضا خان از ہری بریلوی اور اخیر میں یہ ناچیز ابو الحماد الحیدری المداری کا بھی لیا جا سکتا ہے۔
ان مولویوں کے نام جو امام کی نیاز کی تاریخ ۲۲ رجب سے گریز کرتے ہیں
عرس حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بہانے ۲۲ رجب سے گریز کرنے والے علمائے دیوبند اور علمائے عطاریہ کے نام درجہ ذیل ہیں :
مولانا الیاس عطار قادری حالانکہ جب یہ عرس حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں مناتے تھے تو یہ بھی ۲۲ رجب المرجب میں ہی کونڈوں کی نیاز کراتے تھے جیسا کہ ان کی بعض کتابوں میں لکھا ہوا ہے لیکن جب سے اہل بیت کی محبت کا خمار اترا اور عرس حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مناکر مجد د بننے کا شوق مواج ہوا۔ آں جناب پیدائش مولود کعبہ کے دن بالکل سناٹا کھینچ لیتے ہیں لیکن عرس حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مناتے وقت جھوم جھوم کر نعرے لگاتے ہیں اور بڑی خوشی ظاہر کرتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہی ان کے سب سے زیادہ فالور ہیں۔
آن جناب ۲۲ رجب سے سات پائدان نیچے اتر کر علم جفر کے حساب سے چھکا مارنے لگتے ہیں۔ دوسرا نام ان کے خلیفہ جناب عمران عطاری ، اور حاجی حبیب عطاری اور ان کے ہمنوا جناب مفتی منیب الرحمن رضوی کا ہے۔
حال ہی میں مخالفت اہلبیت کے معاملے میں ان کے خلاف بڑی چہ میگوئیاں ہوئیں تھیں بالآخر آپ کو اپنے اس موقف سے رجوع کرنا پڑا تھا۔ اور جناب ڈاکٹر آصف اشرف لاہوری یہ وہی آصف جلالی جی ہیں جنہوں نے سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو خطاوار بتایا تھا اور مولانا مظفر حسین اختری صاحب اور دیوبندی عالم اورنگزیب فاروقی دیوبندی اور الیاس گھمن دیوبندی اور مولانا حنیف جالندھری وغیرہ ان لوگوں نے مذکورہ بالا تمام علمائے اہل سنت والجماعت و محدثین کرام و سادات عظام و جملہ مشائخ اہل خانقاہ سے مخالفت کرتے ہوئے اس بابت ایک نیا مسلک بنا لیا ہے اور علمائے دیو بند کے نظریات کو اپنا راستہ بنالیا ہے۔
اس جماعت کی یہ زعم ہے کہ ۲۲ رجب میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تاریخ وصال ہے۔ اور حضور سیدنا امام جعفر صادق ۱۵ رجب میں پیدا ہوئے لہذا اہل تشیع حضرت معاویہ ابن سفیان رضی اللہ عنہ کی موت پر خوشیاں منانے کے لیے کھیر پوری بانٹتے ہیں۔ العیاذ باللہ –
لہذا اہل تشیع کی مخالفت میں ۱۵ رجب کو ہی کھیر پوری پر نیاز دلانا چاہیے۔ اور اسی دن حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش بھی ہے اس لئیے اور اچھا ہوگا۔
اس کے جواب میں میں کہوں گا کہ اولاً شروع سے ہی مشاہیر و اکابر اہلسنت و جملہ سادات کرام و مشائخ اہل خانقاہ اور ان کے خلفاء کی روش ۲۲ رجب میں ہی امام جعفر صادق کی نیاز دلانے کی ہے۔ ان علمائے اہل سنت والجماعت سے الگ ہٹ کر اور معمولات اہل سنت کو چھوڑ کر دیوبند اور وہابیہ کے ساتھ جاملنا اہل سنت سے گمراہی کی علامت ہے جو کسی طرح روا نہیں کہا جا سکتا ، گویا یہ لوگ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کے اسلاف اب تک غلط کرتے چلے آئے اگر ایسا ہے جب تو انہیں ڈوب مرنا چاہیئے۔ اور اہل سنت سے نکل کر ایک نئی جماعت بنانے کی گھوسنا کر دینا چاہیئے۔
اگر یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ شیعہ لوگوں کی مشابت سے بچنے کیلئے ہی ایسا کرتے ہیں تو کیا اس فلسفے کو ان کے پیر اور پیران پیر اور ان کے اساتذہ اور سلف صالحین اور سادات کرام اس مشابہت سے واقف نہیں تھے؟
یا للعجب ، وہ لوگ آیت کریمہ
” إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ
کی شان نزول بھی نہیں پڑھے تھے؟ اور صاحب در مختار نے تو واضح فرما دیا کہ
"فان التشبه بهم لا يكره في كل شيئ بل في المذموم فيما يقصد به التشبه "
یعنی اس معاملے میں اہل تشیع سے تشابہ بھی اگر ہو رہا ہے تو بھی کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
اور جیسا کہ فتاویٰ تاج الشریعہ میں مولانا اختر رضا بریلوی ازہری نے بھی کہا کہ ” یہ بات بھی کچھ حرج کا باعث نہیں ہے کہ شیعہ اس تاریخ کو فاتحہ کرتے ہیں”۔ اب تو مولانا اختر رضا خان ازہری نے ۲۲ رجب میں کونڈوں کی نیاز کے مخالفین کے سارے داؤ پیچ کی کھٹیا کھڑی کر دی اور سارے منصوبوں پر پانی ڈال دیا۔
فقیر مداری ابو الحماد محمد اسرافیل حیدری المداری کو امید قوی ہے کہ رضوی اور اختری بمعنی از هری علماء و ائمہ حضرات اپنے اپنے گاؤں اور محلوں میں ۲۲ رجب کو ہی امام کا نیاز دلائیں گے اور وہ مولوی جو امام جعفر صادق کی تاریخ کے خلاف گاؤں گاؤں میں غدر کاٹ رہے ہیں ان کا خمسہ بھی درست ہو گیا ہو گا اور اب وہ بھی ۲۲ رجب کو ہی مولی امام جعفر صادق علیہ السلام کے کونڈوں کا نیاز دلائیں گے۔ ورنہ اپنے پیروں سے بغاوت کر کے دائرہ مریدین سے ہی باہر ہو جائیں گے اور جنھوں نے بغاوت کرلی ہے ان کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔
۲۲ رجب المرجب میں سیدنا امام جعفر صادق رضی الله عنہ كى نياز کي حقيقت
مشائخ و سادات کرام کے بیان کرتے چلے آئے کہ سن ۱۲۲ھ رجب کی ۲۲ تاریخ کی رات یعنی ۲۱ کا دن گزار کر ۲۲ کی رات بوقت نماز تہجد اللہ رب العزت نے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو مقامِ عنہ مقام قطبیت کبری ولایت فخاصۂ نبویہ و وراثت علویہ سے سرفراز فرمایا۔گ ۲۲ رجب کو اس عظیم الشان نعمت کبری و مقام قطبیت عظمی حاصل ہونے کے بعد سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے صبح کے وقت اللہ رب العزت کے جانب شکر ادا کرنے کے لیے نیاز بنوائی جو دودھ اور چاول ملا کر بنائی گئی جسے لوگ کھیر“ کہتے ہیں۔
سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ خاندانِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چشم و چراغ ہیں آپ کے گھر میں ٹوٹی چٹائی اور مٹی کے برتن ہی تھے اسی پر آپ شاکر و صابر تھے۔ آپ نے مٹی کے پیالے میں نیاز رکھ کر اپنے دوست و احباب کو بلا کر فرمایا کہ آج رات اللہ پاک نے مجھے مقام قطبیت کبری اور غوثیت عظمی عطا فرماکر اس کا شکر ادا کرنے کا موقع عنایت فرمایا ہے۔ یہ نیاز آپ لوگوں کو بطور تبرک پیش ہے۔
آپ کے بڑے صاحب زادے سید نا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ اور آپ کے دیگر مصاحبین نے دریافت کیا کہ اس نیاز میں ہمارے لیے کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ رب کعبہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے جو نعمت عظمی مجھے عطا فرمائی ہے اس کا میں شکر ادا کرتا ہوں نیاز دلا کر کے اسی طرح اسی تاریخ میں جو بھی شکر ادا کرے گا اور ہمارے وسیلے سے جو دعا مانگے گا تو اللہ رب العزت اس کی مراد ضرور پوری فرمائے گا اور دعا ضرور قبول ہو گی، کیوں کہ اللہ رب العزت اپنے شکر گزار بندوں کو مایوس نہیں فرماتا۔
کہتے ہیں کہ سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے پر پوتے سیدنا امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ سے کچھ دشمنان اہل بیت نے سوال کیا کہ جب ہمارے گھر گی میں پیتل، تانبے کے بہترین بر تن موجود ہیں تو مٹی کے کونڈون کی کیا ضرورت ہے ؟؟
اس پر سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے نانا جان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے مٹی کے برتن میں کھانا۔ آج مسلمانوں نے ہمارے نانا جان کی سنتوں کو ترک کر دیا ہے۔ ہم نے اس نیاز کو مٹی کے پیالوں میں اس لیے ضروری قرار دیا ہے تا کہ کم از کم سال میں ایک مرتبہ ہی مٹی کے کونڈوں میں نیاز کھاکر سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادا ہو جائے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
منهاج الصالحين مصنف محی الدین ابو بکر البغدادی،
کشف الاسرار عبد اللہ ابن علی اصفهانی
معدن اسرار اہل البیت محمد بن اسماعیل متقی مکی
مخزن انوار ولایت برہان الدین عسقلانی
بعض محبین نے یہ حوالے مستخرج کر کے میرے پاس بھیجے ہیں جو ابھی میرے نزدیک محل تحقیق ہیں۔
۱۱ (گیارھویں شریف) گیاره ربيع الآخر اور کونڈے کی نیاز وفاتحہ ۲۲ رجب کوهی کریں
خیال رہے کہ ۲۲ رجب نہ تو حضرت امام صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وصال کی تاریخ ہے اور نہ ہی پیدائش کی تاریخ ہے۔ بلکہ جس طرح ۱۱ ربیع الآخر نہ تو حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش کا دن ہے اور نہ ہی وصال کی تاریخ ہے۔ قادری حضرات عید غوثیہ مناتے ہیں اور جلوس و لنگر اور افضل کھانوں پر فاتحہ خوانی کرتے ہیں اور بہت سی چیزوں کا اہتمام کیا کرتے ہیں تو شہ شریف کا فاتحہ دیتے ہیں یہ سارے کام دھوم دھام سے ہوتے ہیں۔ اسی طرح ۲۲ رجب المرجب ہے۔
یہ تو سارے سلاسل اولیاء کے لیے جشن کا دن ہونا چاہئے اس لیے کہ تمامی اہلسنت والجماعت کے مسلمانوں کی نسبت انہیں کے دامن سے بندھی ہے اس دن بھی جلوس جعفر یہ نکلنا چاہیے، بلکہ سارے ائمہ اہلبیت کی پیدائش و وصال کی تواریخ میں بڑے اہتمام سے لنگر و طعام کا انتظام کرنا چاہیے تاکہ دنیا کو یہ پیغام جائے کہ سارے ائمہ اہلبیت علمائے اہلسنت والجماعت کے امام ہیں صرف شیعہ لوگوں کی جاگیر یہ امام نہیں ہیں۔ یہ تواریخ تو ہم سب کے لئے حصول نعمات کے دن ہیں خصوصاً امام جعفر الصادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصول نعمات کے دن ہم سبھی اہلسنت کے لیے عید سے کم نہیں ہے۔
اس لئے ہم اس دن خاص پکوان پر امام جعفر صادق علیہ السلام کی نیاز دے کر اظہار مسرت کرتے ہیں اور خویش و اقارب اور اپنے محلوں کے مسلمانوں کے گھروں میں امام کی نیاز پہونچاتے ہیں۔ ان کی سیرت و سوانح بیان کرتے ہیں تمامی اہلسنت والجماعت کو چاہیے کہ سارے ائمہ اہلبیت کی مقررہ تاریخوں میں ان کے اعراس دھوم دھام اور جوش و خروش سے منایا کریں تاکہ محبت اہلبیت کو فروغ ملے اور ذات رسالت سے رشتہ مستحکم ہو۔
اہل بیت سے محبت کرنے والوں کیلئے یہ تحفہ بارگاہ ائمہ اہلبیت و بارگاه خدا و رسول علیہ السلام میں قبول ہو!
فقط والسلام
چونکہ سخت بیماری کی حالت میں خود ہی پورے مضمون کی کتابت کی ہے اگر غلطیاں ملیں تو ناظرین معاف کر دیں اور مجھے مطلع فرمائیں اور مجھ فقیر الی ربہ الکریم کے لیے دعائے شفا کریں۔
کتبہ
ابو الحماد محمد اسرافیل حیدری المداری
دار النور آستانہ عالیه زنده شاه مدار قدس سرہ العزیز مکن پور شریف کانپور نگر
9793347086 :موبائل










