رب تبارک و تعالی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام اولیائے کرام رضوانُ اللہِ علیہم دیگر معتبر شخصیات

حضرت امام باقر علیہ السلام

On: دسمبر 22, 2025 10:42 صبح
Follow Us:

نام

امام باقر کا نام محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب علیہ السلام ہے۔

کنیت و لقب

امام باقر کی کنیت ابو جعفر اور لقب باقر ہے۔

باقر کی وجہ تسمیہ

آپ کو باقر اس وجہ سے کہتے ہیں کہ آپ مختلف علوم میں وسعت نظر کے مالک تھے اور ان کی خوب تشریح و تصریح فرماتے۔

آپ کی والدہ

امام باقر کی والدہ کا نام فاطمہ تھا جو حضرت امام حسن بن علی علیہم السلام کی بیٹی تھیں۔

سن ولادت

امام باقر کی پیدائش مدینہ منورہ میں ماہ صفر کی تیسری تاریخ کو بروز جمعۃ المبارک ۵۷ ہجری میں ہوئی۔ حضرت امام حسین کی شہادت سے تین سال پہلے۔

رسول اللہ کا سلام

امام باقر خود بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اس وقت آکر سلام کیا، جب ان کی بصارت ختم ہو چکی تھی۔ انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور پوچھا
“آپ کون ہیں؟“
میں نے بتایا
“میں محمد بن علی بن حسین ہوں۔“
حضرت جابر نے کہا: اے میرے بیٹے میرے نزدیک آؤ۔
میں قریب آیا تو انہوں نے میرے ہاتھ چوم لئے اور پاؤں چومنے کے لیے بھی خواہش کا اظہار کیا۔ میں دور جا کھڑا ہوا تو انہوں نے فرمایا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں سلام بھیجا ہے۔
میں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی صلوٰۃ و سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکت ہو۔
پھر میں نے پوچھا
اے جابر! یہ سب کچھ کیونکر ہوا ہے؟
حضرت جابر نے کہا
ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا تو آپ نے مجھے فرمایا
“اے جابر! شاید تمہاری ملاقات میرے ایک فرزند سے ہو جسے محمد بن علی بن حسین کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جل جلالہ اسے انوار و حکم عطا کرے گا۔ تم اسے میرا سلام ارسال کر دینا۔“

ایک اور روایت میں حضرت جابر سے یوں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا
اے جابر! ہو سکتا ہے تو حسین کے ایسے بیٹے سے ملاقات کرنے کے لیے زندہ رہے جس کا نام محمد ہے اور جو علم دین کی خوب اشاعت و تصریح کرے گا۔ جب تیری اس سے ملاقات ہو تو اسے میرا سلام کہنا۔

بعض روایتوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر سے فرمایا
تمہاری زندگی اس سے ملاقات کے بعد چند روز ہوگی۔
چنانچہ آپ سے ملاقات کے بعد حضرت جابر کا انتقال ہو گیا۔

ہشام بن عبد الملک کا گھر

ایک ثقہ راوی کا بیان ہے کہ

ہم محمد بن علی بن حسین (امام باقر) کے ہمراہ ہشام بن عبد الملک کے گھر کے پاس سے اس وقت گزرے جب وہ اس کی بنیاد رکھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا
اللہ کی قسم یہ گھر خراب دختہ ہو جائے گا اور لوگ اس کی مٹی تک کو اکھاڑ کر لے جائیں گے۔ یہ پتھر جن سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے کھنڈرات میں تبدیل ہو جائیں گے۔

راوی کہتا ہے
مجھے آپ کی اس بات سے تعجب ہوا کہ ہشام کے گھر کو کون خراب اور تباہ کر سکتا ہے؟ جب ہشام نے وفات پائی تو ولید بن ہشام کے کہنے پر اس گھر کو مسمار کر دیا گیا اور مٹی کو اس حد تک کھودا گیا کہ مکان کی بنیاد کے پتھر نظر آنے لگے۔ یہ سب کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

اسی راوی کا بیان ہے کہ میں حضرت باقر کے ساتھ تھا کہ آپ کا بھائی زید بن علی ہمارے پاس سے گزرا۔ آپ نے فرمایا
اللہ کی قسم! یہ کوفہ میں خروج کرے گا اور لوگ اسے قتل کر دیں گے اور اس کے سر کو گلی کوچوں میں پھیراتے ہوئے یہاں لے آئیں گے اور نیزے پر لٹکا دیں گے۔
ہمیں آپ کی ان باتوں سے تعجب ہوا کیونکہ مدینہ میں کبھی کسی کو نیزے پر نہیں لٹکایا گیا تھا، لہٰذا جب ان کے سر کو لایا گیا تو اس کے ساتھ سولی بھی تھی۔

نماز کی جگہ

فیض بن مطر کہتے ہیں

میں حضرت امام ابو جعفر باقر کے ہاں حاضر ہوا تو میں نے چاہا کہ میں نماز عشاء ادا کرنے کے لیے جگہ کے بارے میں سوال کروں۔ میں نے ابھی سوال بھی نہ کیا تھا کہ آپ نے حدیث بیان کر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی کشادہ زمین پر جہاں گھاس کثرت سے ہو نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔

جنات کا فتویٰ طلب کرنا

ایک اور راوی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت باقر سے ملاقات کی اجازت طلب کی۔ لوگوں نے مجھے کہا: عجلت سے کام نہ لو، کیونکہ ان کے پاس تمہارے بھائی بندو بیٹھے ہیں۔
ابھی وہ باہر نہ آئے تھے کہ بارہ افراد تنگ قباؤں میں ملبوس اور ہاتھ پاؤں میں دستانے اور موزے پہنے ہوئے باہر آئے۔ انہوں نے السلام علیکم کہا اور چلے گئے۔
اس کے بعد میں حضرت باقر کے پاس حاضر ہوا۔ میں نے پوچھا
یہ کون تھے جو ابھی ابھی آپ کے پاس سے گئے ہیں؟
آپ نے فرمایا
یہ تمہارے بھائی جن ہیں۔
میں نے پوچھا
کیا آپ انہیں دیکھ لیتے ہیں؟
آپ نے فرمایا
ہاں! جس طرح تم حلال و حرام کے متعلق استفتاء کرتے ہو اسی طرح وہ بھی آکر پوچھتے ہیں۔

بھیڑئیے کی التجاء

ایک اور راوی نے کہا ہے کہ

ہم حضرت محمد بن علی کے ساتھ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی درمیانی وادی میں سفر کر رہے تھے۔ اس وقت آپ ایک خچر پر سوار تھے میں ایک گدھے پر سوار تھا اچانک میں نے دیکھا کہ کوئی شخص پہاڑی سے اتر کر ان کے نزدیک آیا، وہ آپ کے خچر کی نگہبانی کرتا رہا اور ایک بھیڑیڑیا اپنے ہاتھوں کو خچر کی زین کے آگے رکھ کر بہت دیر تک ان سے گفتگو کرتا رہا اور وہ سنتے رہے آخر آپ نے اس بھیڑیے سے کہا اب چلے جاؤ جس طرح تم چاہتے تھے میں نے کر دیا ہے بھیڑیا چلا گیا، آپ نے مجھ سے کہا تجھے پتہ ہے یہ کیا کہتا تھا میں نے کہا اللہ اس کا رسول اور رسول کا بیٹا زیادہ جاننے والے ہیں، آپ نے فرمایا وہ کہہ رہا تھا میری جفت اس وقت درد زہ میں مبتلا ہے دعا کیجئے کہ اللہ تعالی اسے خلاصی دے اور میری نسل سے کسی کو بھی آپ کے ارادت کیشوں پر مسلط نہ کرے چنانچہ میں نے دعا کی

آنے والے مہمان کی خبر

بزرگانِ سلف میں سے ایک کا بیان ہے کہ

مکہ میں مجھ پر محمد بن علی بن حسین (امام باقر) کا شوقِ دید غالب آیا تو میں بالخصوص ان کے لیے مدینہ گیا۔ جس رات میں مدینہ منورہ پہنچا سخت بارش ہوئی، جس کے باعث سردی بڑھ گئی۔ نصف شب گزر چکی تھی تو میں آپ کے گھر پہنچا۔ میں ابھی اس فکر میں تھا کہ آپ کا دروازہ اسی وقت کھٹکھٹاؤں یا صبر سے کام لوں کہ صبح کو وہ خود ہی باہر تشریف لے آئیں، اچانک آپ کی آواز سنائی دی۔ آپ نے کہا
اے لونڈی! فلاں شخص کے لیے دروازہ کھولو کیونکہ آج رات اسے سخت سردی لگی ہے۔
لونڈی آئی، دروازہ کھولا اور میں اندر چلا گیا۔

دل کی بات جان لینا

ایک دوسرے شخص کا بیان ہے کہ

میں امام باقر کے دولت کدہ پہ گیا تو آپ نے میرے سوا ہر ایک کو ملنے کی اجازت دے دی۔ میں بہت غمگین و اندوہ گیں گھر واپس آیا۔ مجھے اس رات نیند بھی نہ آئی۔ مجھے بہت تشویش ہوئی۔ میں نے اپنے آپ سے کہا: واپس مکہ مکرمہ چلا جاؤں۔ اگر مرجیہ لوگوں کے ساتھ جاؤں تو وہ یوں کہتے ہیں۔ اگر قدریہ کی جماعت کے ساتھ جاؤں تو وہ یوں کہیں گے۔ اگر حروریہ کے ساتھ جاؤں تو وہ یوں کہتے ہیں۔ اگر یزیدیہ کے ساتھ جاؤں تو وہ اس طرح کہتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی باتیں تخریب و فساد سے خالی نہیں۔
میں اس ذہنی کشمکش میں تھا کہ صبح کی نماز کی اذان ہو گئی۔ اچانک کسی کے دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز سنائی دی۔ میں نے کہا
کون ہے؟
آنے والا بولا
میں محمد بن علی بن حسین (امام باقر) کا قاصد ہوں۔
میں باہر آیا تو اس نے کہا
آپ کو یاد فرما رہے ہیں۔
میں کپڑے پہن کر وہاں گیا اور جب آپ سے ملا تو آپ نے کہا
اے فلاں! تم نہ مرجیہ کے ساتھ لوٹو، نہ قدریہ کے ساتھ، نہ یزیدیہ کے ساتھ، نہ حروریہ کے ساتھ بلکہ تم ہماری طرف لوٹو۔

امام باقر کی ذہانت

ایک شخص کا بیان ہے کہ میں مدینے میں تھا کہ اچانک دور سے تاریکی ظاہر ہوئی۔ یہ تاریکی کبھی گہری ہو جاتی اور کبھی غائب ہو جاتی۔ جونہی میرے قریب آئی تو میں نے دیکھا کہ ایک سات آٹھ سالہ بچہ مجھے السلام علیکم کہہ رہا ہے۔
میں نے جواب دیا۔ بعد ازاں میں نے اس سے پوچھا:
آپ کہاں سے آئے ہیں؟
اس نے جواب دیا:
میں اللہ کی طرف سے آیا ہوں۔
میں نے پوچھا
تمہارا زادِ راہ کیا ہے؟
اس نے کہا
میرا زادِ راہ تقویٰ ہے۔
میں نے پوچھا
تو کون ہے؟
اس نے کہا
میں ایک عربی انسان ہوں۔
میں نے پوچھا
تمہارا کس خاندان سے تعلق ہے؟
اس نے کہا
میں قریشی ہوں۔
میں نے پوچھا
آپ کا خاص کر کسی قبیلے سے تعلق ہے؟
اس نے کہا
میں ہاشمی ہوں۔
میں نے پوچھا
آپ کس کے بیٹے ہیں؟
اس نے کہا
میں علوی ہوں۔
اس کے بعد اس نے اشعار پڑھنا شروع کر دیئے۔

درختوں کے جھنڈ کا بات ماننا

ایک راوی کا بیان ہے کہ

میں نے حضرت باقر سے پوچھا
اللہ جل جلالہ پر بندے کا کیا حق ہے؟
آپ نے اپنا چہرہ مجھ سے پھیر لیا۔ میں نے تین بار اپنا سوال دہرایا۔ تیسری دفعہ آپ نے فرمایا
اللہ پر بندے کا حق یہ ہے کہ وہ اس کھجوروں کے جھنڈ کو کہے کہ ادھر آؤ تو وہ آجائے۔
آپ نے جونہی اس جھنڈ کو اشارہ کیا تو میں نے دیکھا کہ وہ حرکت میں آ گیا تاکہ آپ کی طرف آ جائے لیکن آپ نے اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ پر قائم رہے کیونکہ آپ نے اسے اس طرح آنے کے لیے نہیں کہا تھا۔

نظرِ ولایت

ایک بزرگ روایت کرتے ہیں کہ

میں حضرت باقر کے ہاں گیا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک کنیز باہر آئی، وہ جوانی میں قدم رکھ رہی تھی، مجھے بہت اچھی لگی۔ میں نے اس کے پستانوں کو چھوتے ہوئے کہا
اپنے آقا سے کہو فلاں شخص دروازے پر حاضر ہے۔
اندر سے آواز آئی
اندر آ جاؤ! ہم تمہارے انتظار میں ہیں۔
میں اندر گیا تو عرض کیا
حضور! میرا بدی کا کوئی ارادہ نہ تھا۔
آپ نے فرمایا
تم سچ کہتے ہو لیکن یہ کبھی تصور نہ کرنا کہ یہ در و دیوار ہماری آنکھوں کے سامنے ویسے ہی بحیثیت حجاب ہوتے ہیں جیسے تمہاری آنکھوں کے سامنے۔ اگر ایسا ہو تو تمہارے اور ہمارے درمیان فرق کیا رہا؟ اب کبھی ایسی حرکت نہ کرنا۔

سفید بالوں کا سیاہ ہونا

ایک راوی کا بیان ہے کہ

دو عورتیں بنام جبابہ اور اہلیہ حضرت باقر سے ملنے آئیں۔ آپ نے فرمایا
تم ہمارے پاس دیر سے کیوں آئی ہو؟
جبابہ بولی
میرے بال سفید ہو گئے ہیں، میں انہیں ٹھیک کرنے میں مشغول رہتی ہوں۔
حضرت باقر نے فرمایا
مجھے دکھاؤ۔
اس نے دکھائے تو آپ نے اپنا دستِ مقدس ان پر پھیرا جس سے وہ سیاہ ہو گئے۔ پھر فرمایا
اسے آئینہ دکھاؤ۔
اس نے آئینہ دیکھا تو اس کے بال سیاہ ہو چکے تھے۔

دوانقی کی حکومت

ایک راوی کہتا ہے کہ

میں حضرت باقر کے ساتھ مسجد نبوی میں بیٹھا تھا۔ ان دنوں حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہو چکا تھا۔ اچانک داؤد بن سلیمان اور منصور دوانقی آ گئے۔ داؤد حضرت باقر کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن دوانقی کسی اور جگہ بیٹھا رہا۔ حضرت باقر نے پوچھا
دوانقی میرے پاس کیوں نہیں آیا؟
داؤد نے معذرت پیش کی۔ آپ نے فرمایا
کچھ دنوں بعد دوانقی حاکم ہوگا اور مشرق و مغرب اس کی ملک ہوں گے۔ اس کی عمر بھی بہت طویل ہو گی اور اتنے خزانے جمع کرے گا کہ اس سے پہلے کسی نے بھی جمع نہ کیے ہوں گے۔ داؤد اٹھے اور سارا قصہ دوانقی کو سنایا۔ دوانقی حاضر خدمت ہوا اور کہا: آپ کے ہاں آنے پر بجز آپ کے اجلال واکرام کے کوئی چیز مانع تھی۔ پھر پوچھا: داؤد کیا کہتا ہے۔؟ "فرمایا: سچ کہتا ہے اور ایسا ہی ہوگا۔ پھر پوچھا: آیا ہماری سلطنت آپ کی سلطنت سے پہلے ہوگی۔ ؟ ہاں۔ اس نے پھر پوچھا: ہماری سلطنت زیادہ دیر چلے گی یا بنوامیہ کی؟ آپ نے فرمایا: تمہاری سلطنت زیادہ دیر رہے گی لیکن بچوں کے ہاتھوں میں رہے گی جس سے کھیلتے رہیں گے جیسے گیند سے کھیلتے ہیں۔ بس یہی ہے جو میں نے اپنے والد محترم سے سنا ہے۔ چنانچہ جب دوافقی والی ملک بنا تو اسے حضرت باقر کی ہاتوں پر سخت تعجب ہوا (کیونکہ وہ حروف بحرف سچی نکلیں)

طاقتِ ولایت

حضرت ابو بصیر جو آنکھوں کی روشنی سے محروم ہو گئے تھے، کہتے ہیں کہ

ایک روز میں نے حضرت باقر سے کہا
کیا آپ محافظِ دینِ پیغمبر ہیں؟
آپ نے فرمایا
ہاں۔
میں نے کہا
پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں۔
آپ نے فرمایا
ہاں۔
میں نے کہا
کیا آپ کو بھی وہ علوم میراث میں ملے ہیں؟
آپ نے فرمایا
ہاں۔
میں نے کہا
آپ کو یہ طاقت ہے کہ مردوں کو زندہ کر دیں، مادرزاد اندھوں کو بینا کر دیں؟
آپ نے فرمایا
ہاں! میں اللہ کے حکم سے بتا سکتا ہوں۔
پھر فرمایا
میرے سامنے آ کر بیٹھ جاؤ۔
میں بیٹھ گیا۔ آپ نے اپنا دستِ مبارک میرے چہرے پر پھیرا، میری آنکھیں روشن ہو گئیں۔ چنانچہ میں نے کوہ و بیابان اور زمین و آسمان کی وسعتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پھر آپ نے دوبارہ اپنا ہاتھ میرے چہرے پر پھیرا تو میں اپنی پہلی حالت پر آ گیا۔
آپ نے فرمایا
ان دونوں حالتوں میں سے کس حالت کو پسند کرتے ہو، یہ کہ تمہاری آنکھیں درست ہو جائیں اور تمہارا حساب اللہ کے سپرد ہو، یا تمہاری آنکھیں ایسی ہی رہیں اور تم بغیر حساب کے جنت الفردوس میں جاؤ؟
میں نے کہا
میں اس چیز کو پسند کرتا ہوں کہ میں نابینا ہی رہوں اور بغیر حساب کے جنت میں جاؤں۔

فرشتہ کا حاضرِ خدمت رہنا

ایک راوی کہتے ہیں کہ ہم تقریباً پچاس افراد حضرت امام باقر کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک اور شخص بھی حاضر ہوا جس کا کاروبار چمڑا فروشی تھا۔ اس نے حضرت باقر سے مخاطب ہو کر کہا
کوفہ میں ایک شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ آپ کے پاس ایک فرشتہ ہے جو کافر و مومن اور دوست و دشمن میں تمیز کر کے آپ کو اطلاع دیتا ہے؟
حضرت باقر نے فرمایا
تم کیا کام کرتے ہو؟
اس نے کہا
میں کبھی کبھی کھال بھی بیچ لیتا ہوں۔
آپ نے فرمایا
یہ غلط ہے، تم تو کھجوریں بیچتے ہو۔
اس شخص نے کہا
آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟
آپ نے فرمایا
مجھے فرشتہ ربانی اطلاع دیتا ہے کہ فلاں تمہارا دوست ہے یا دشمن۔ اور سنو! تم فلاں بیماری کے سوا کسی اور بیماری سے نہیں مرو گے۔
راوی کہتا ہے کہ جب میں کوفہ واپس گیا اور اس شخص کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ اسی بیماری سے مرا جس کا ذکر حضرت باقر نے فرمایا تھا۔

نصرانی کا کرامت دیکھ کر مسلمان ہونا

ایک راوی بیان کرتا ہے کہ ایک دن حضرت باقر گھوڑے پر سوار کہیں جا رہے تھے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ تھوڑی دور جا کر دو آدمیوں سے ملاقات ہوئی۔ حضرت باقر نے فرمایا
یہ دونوں چور ہیں، انہیں پکڑ لو اور مضبوطی سے باندھ دو۔
غلاموں نے انہیں باندھ دیا۔ پھر آپ نے فرمایا
اس پہاڑ پر جاؤ، وہاں ایک غار ہے، اس میں جو کچھ ملے لے آؤ۔
وہ گئے اور دو صندوق سامان کے لے آئے۔ آپ نے فرمایا
ان کے مالکوں میں سے ایک یہاں موجود ہے اور دوسرا موجود نہیں۔
مدینہ پہنچنے پر دونوں صندوق ان کے مالکوں کے حوالے کر دیے گئے اور چوروں کے ہاتھ کاٹ دیے گئے۔
ان میں سے ایک چور نے کہا
اللہ کا شکر ہے میرا ہاتھ فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کاٹا گیا اور انہی کے دستِ حق پرست پر میری توبہ قبول ہوئی۔
آپ نے فرمایا
توبہ کا عہد کرو، تم ایک سال کے بعد دنیا سے چلے جاؤ گے۔
چنانچہ وہ ایک سال بعد فوت ہو گیا۔

بعد میں ایک نصرانی آیا، جب اس نے یہ تمام واقعات دیکھے تو کہا
بے شک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
یہ کہہ کر وہ مسلمان ہو گیا۔

فضیلتِ باقر

جناب ابو بصیر روایت کرتے ہیں کہ

حضرت باقر نے فرمایا
مجھے ایک ایسے شخص کا حال معلوم ہے جو اگر دریا کے کنارے کھڑا ہو جائے تو دریا کے تمام جانوروں، ان کی ماؤں، بچیوں اور خالاؤں کے نام جان لیتا ہے۔

مناجاتِ نبوت

ایک راوی کہتا ہے کہ

ہم ایک گروہ کی شکل میں حضرت باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آستانے پر حاضر ہوئے تو ہمیں ایک شخص کی خوش الحانی سے کچھ سریانی زبان میں پڑھنے کی آواز سنائی دی۔ ہمارے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کوئی اہلِ کتاب کچھ پڑھ رہا ہے۔ ہم اندر گئے تو آپ کے سوا کوئی شخص موجود نہ تھا۔ ہم نے عرض کیا
ہمیں ابھی ابھی ایک شخص سریانی میں کچھ پڑھتا ہوا سنائی دیا تھا، وہ کہاں ہے؟
آپ نے فرمایا
مجھے فلاں نبی کی مناجات یاد ہیں، جب میں اسے پڑھتا ہوں تو وہ مجھے رُلا دیتی ہے۔

امام باقر کی بہو

ایک دن ابنِ عکاشہ حضرت باقر کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت آپ کے فرزند ارجمند حضرت امام جعفر بھی آپ کے پاس کھڑے تھے۔ ابنِ عکاشہ نے کہا
اب تو ماشاء اللہ جعفر جوان ہو گئے ہیں، ان کی شادی ہونی چاہیے، آپ ان کی شادی کیوں نہیں کرتے؟
اس وقت حضرت باقر کے پاس سر بمہر سونے کی ایک تھیلی تھی۔ آپ نے فرمایا
یہ تھیلی لے جاؤ اور ایک لونڈی خرید لاؤ۔

ہم بردہ فروش کے پاس گئے تو اس نے کہا
میرے پاس جو تھی وہ بیچ چکا ہوں، ہاں البتہ ایک دو لونڈیاں ہیں جو ایک دوسری سے بڑھ چڑھ کر ہیں۔
انہیں باہر لاؤ تاکہ دیکھ لیں۔
دونوں باہر آئیں تو ایک کو ہم نے پسند کر لیا۔ میں نے کہا
اس کی کیا قیمت لے گا؟
اس نے کہا
ستر ہزار دینار۔
ہم نے کہا
کچھ تو کم کیجیے۔
کہنے لگا
ایک کوڑی کم نہ ہو گی۔

آخر ہم نے کہا
ہم اس لونڈی کو اس تھیلی میں جو بھی ہے، اس کے عوض خریدنا چاہتے ہیں، ہم نہیں جانتے اس میں کتنے دینار ہیں۔
بردہ فروش بولا
اگر ستر ہزار دینار سے ایک کوڑی بھی کم ہوئی تو میں ہرگز فروخت نہیں کروں گا۔

چنانچہ تھیلی کھولی گئی اور سونا بے کم و کاست ستر ہزار دینار نکلا۔ لونڈی خرید کر حضرت باقر کی خدمت میں پیش کی گئی۔ حضرت جعفر بھی اس وقت موجود تھے۔ آپ نے الحمد للہ فرمایا۔ پھر لونڈی سے پوچھا
تمہارا نام کیا ہے؟
اس نے کہا
میرا نام حمیدہ ہے۔
آپ نے فرمایا
دنیا میں حمیدہ اور آخرت میں محمودہ۔

پھر آپ نے پوچھا
تم کنواری ہو یا غیر باکرہ؟
اس نے کہا
میں کنواری ہوں۔
آپ نے فرمایا
یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
اس نے کہا
جب بھی کوئی بردہ فروش میرے قریب برے ارادے سے آتا تو ایک سفید سر اور سفید ریش بزرگ آ کر اس کے منہ پر طمانچہ مارتے اور اسے مجھ سے دور کر دیتے۔

یہ سن کر حضرت باقر نے لونڈی حضرت جعفر کے حوالے کر دی، جن سے بہترین خلائق حضرت موسیٰ بن جعفر پیدا ہوئے۔

مدینہ پر حملہ کی خبر

ایک دن امام باقر مدینہ میں چند آدمیوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ آپ نے سر نیچے جھکا لیا، پھر اٹھا کر فرمایا
تمہاری حالت یہ ہو گی کہ ایک وقت کوئی شخص چار ہزار افراد کے ساتھ مدینہ میں داخل ہو گا اور تین دن قتلِ عام کرے گا۔ یہ واقعہ آئندہ سال ہوگا۔
"میں جو کچھ کہتا ہوں سچ کہتا ہوں اسے یقین محکم سے مانو” اہلِ مدینہ نے اس بات کو قبول نہ کیا، مگر بنو ہاشم جانتے تھے کہ آپ سچ فرماتے ہیں۔ چنانچہ آئندہ سال آپ بنو ہاشم کے ساتھ مدینہ سے باہر چلے گئے اور نافع الارزق نے وہی کچھ کیا جو آپ نے فرمایا تھا۔ اس واقعے کے بعد اہل مدینہ نے کہا اب حضرت باقر جو بھی فرمائیں گے ہم اس سے سر موتجاوز نہیں کریں گے کیونکہ یہ اہل بیت نبوت سے ہیں اور جو بھی کہتے ہیں حق و صداقت پر مبنی ہوتا ہے

بیٹے کو وصیت اور کرامت

ایک راوی بیان کرتا ہے کہ

امام جعفر صادق نے فرمایا
میرے والد امام باقر نے مجھے وصیت کی کہ میری وفات کے بعد میری تغسیل و تدفین خود کرنا کیونکہ امام کے لیے یہی سنت ہے۔

وفات کی خبر

حضرت امام جعفر سے روایت ہے کہ ایک دن میرے والد نے فرمایا
میری عمر صرف پانچ سال رہ گئی ہے۔
جب انہوں نے وفات پائی تو ہم نے ماہ و سال شمار کیے وہی مدت نکلی جتنی آپ نے بتائی تھی۔

وصال

امام باقر نے ۱۱۴ ہجری میں ۵۷ سال کی عمر میں وفات پائی۔

قبر مبارک

امام باقر کی قبر جنت البقیع میں اپنے والد محترم امام زین العابدین کے پہلو میں ہے۔

ماخوذ

ائمہ اہل بیت روشن ستارے
شیخ محمد ابراہیم طائفی فاروقی
ترجمہ مفتی محمد وسیم اکرم القادری
صفحہ ۴۱۱ – ۴۲۴

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment