رب تبارک و تعالی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام اہلِ بیتِ عظام علیہم السلام اولیائے کرام رضوانُ اللہِ علیہم دیگر معتبر شخصیات

گل پوشی روضۂ قطب المدارؒ

On: اکتوبر 29, 2025 12:50 شام
Follow Us:
gul poshi, gol poshi, qutbul madar, گل پوشی روضۂ قطب المدارؒ

تعارف: دارالنور مکن پور شریف

اتر پردیش کے ضلع کانپور پور میں واقع دارالنور مکن پور شریف برصغیر کے روحانی نقشے پر ایک ایسا درخشندہ مرکز ہے جہاں سے ولایت، عرفان، اور عشقِ الٰہی کی روشنی صدیوں سے پھیل رہی ہے۔
یہ وہ بستی ہے جسے حضرت سید بدیع الدین احمد زندہ شاہ مدارؒ نے ۸۱۸ھ میں اپنے قدومِ مبارک سے شرفِ تقدیس بخشا۔
یوں مکن پور شریف ایک عام قصبہ نہیں، بلکہ اہلِ دل کے لیے قبلۂ حاجات بن گیا۔

ہر صدی میں جب بھی وقت کی گردشوں نے انسانوں کو اضطراب میں مبتلا کیا، ان کے دلوں نے اسی آستانۂ قطب المدار کی طرف رجوع کیا۔
یہاں کی مٹی میں فیض ہے، ہوا میں نکہتِ ولایت ہے، اور فضا میں وہ نور بسا ہوا ہے جس نے ہزاروں دلوں کو عشقِ حق کی جلا بخشی۔

رسمِ گل پوشی کا تعارف

عرسِ زندہ شاہ مدارؒ کی ابتدا ہمیشہ 6 جمادی الاول سے ہوتی ہے، جب رسمِ گل پوشی کی روحانی تقریب منعقد ہوتی ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب مکن پور کی فضا میں پھولوں کی خوشبو، درود و سلام کی صدائیں، اور عقیدت مندوں کی آنکھوں میں اشکِ شوق ایک ساتھ جھلکتے ہیں۔

رسمِ گل پوشی دراصل خانقاہ عالیہ مداریہ کی قدیم ترین روایات میں سے ہے۔
یہ صرف ظاہری تقریب نہیں، بلکہ “محبت کی تجدید” اور “فیضانِ ولایت کی تقسیم” کا منظر ہے۔

رسم کی کیفیت اور ترتیب

جمادی الاول کی ۶ ۔ تاریخ کی صبح
سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی خانقاہ کے صحن میں خدام کی چہل پہل شروع ہو جاتی ہے۔
صبح 7:30 بجے مزار شریف کی صفائی، دھلائی اور چادر پوشی کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد گلاب کے پھولوں سے آٹھ لڑیوں کا ایک سہرا تیار کیا جاتا ہے جسے “گل پوشی کا سہرا” کہا جاتا ہے۔

وقت 10:00 بجے غلاف پوشی کی تقریب ہوتی ہے۔
اس کے بعد چاروں یاروں کی نسبت سے چار خدام، اور پنجتن پاکؑ کی نسبت سے پانچ شہزادگان، مزارِ مبارک کے سنہرے کلس کی صفائی اور گل پوشی کی خدمت انجام دیتے ہیں۔

یہ خدمت نہایت ادب و خاموشی سے، درود و وظائف کے ساتھ انجام دی جاتی ہے۔
پھولوں کے سہروں سے جب روضۂ قطب المدار پر گل پوشی کی جاتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے جنت کے پھول آسمان سے برس رہے ہوں۔

کرامتِ گل پوشی

یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب روحانیت کا ظہور آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔
جیسے ہی خدام گل پوشی مکمل کر کے باہر آتے ہیں، مزارِ مقدس کا سنہری کلس جو عام حالت میں باریک اور بلند دکھائی دیتا ہے اب چوڑا اور نورانی دکھنے لگتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے اس کے وسط میں ایک روشن گگرا ٹمٹما رہی ہو۔

یہ منظر وہاں موجود ہزاروں زائرین اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، اور حیرت سے لبیک کہتے ہیں سبحان اللہ! یہ مدار پاکؒ کی کرامت ہے
یہی وہ لمحہ ہے کہ شاعر نے کہا

ہر اہلِ دل کی چاہت ہے ترے روضے کی گل پوشی
بہارِ باغِ جنت ہے ترے روضے کی گل پوشی

تاریخی پس منظر۔ ۶ جمادی الاول کی نسبت

تاریخ ۶ جمادی الاول محض انتخاب نہیں، بلکہ ایک تاریخی یاد ہے۔
اسی دن ۸۳۸ھ میں حضرت زندہ شاہ مدارؒ نے اپنے خدام، مریدین اور خلفائے کرام کے سامنے اپنا آخری خطبہ ارشاد فرمایا، جو بعد میں “خطبۂ حجۃ المدار” کے نام سے مشہور ہوا۔

اس خطبے میں آپ نے اپنے وصال کی اطلاع دی، اپنے خلفا کو تبلیغ و ارشاد کے لیے بلاد و قصبات میں روانہ فرمایا، اور اپنے برادرزادوں کو “کَنَفْسٍ وَاحِدًا” کا خطاب دے کر اپنا روحانی جانشین مقرر فرمایا۔

اسی یاد کے تسلسل میں بعد کے ادوار میں ۶ جمادی الاول کو گل پوشی کی رسم ادا کی جانے لگی تاکہ ہر سال وہی لمحہ یاد کیا جائے جب ولایتِ مداریت نے وصالِ ظاہری کے باوجود فیضانِ ابدی کی تجدید کی۔

خدام و مشائخ کی شرکت

اس مبارک موقع پر خانقاہ کے خدام، علما، سجادگان اور زائرین کا ہجوم ہوتا ہے۔ درگاہ کے صدر نشین، حضرت علامہ سید محمد انتخاب عالم صاحب جعفری مداری مدظلہ العالی، اس رسم کی قیادت فرماتے ہیں۔

جبکہ گل پوشی میں جو پھول و سہرا نظر کیے جاتے ہیں، وہ خدمت حضرت الشاہ سید محمد اختیار احمد صاحب جعفری مداری دامت برکاتہم العالیہ انجام دیتے ہیں جو اپنے اجداد کے اس نورانی سلسلے کے سچے وارث ہیں۔ یوں یہ رسم محض ایک عمل نہیں، بلکہ سلسلۂ ولایت کی تسلسل آشنا نشانی ہے۔

گل پوشی کا روحانی مفہوم

گل پوشی ایک علامتی عبادت ہے۔ پھول یہاں عشق کی نذریں ہیں، خوشبو ذکرِ الٰہی کی فضا ہے، اور سہرا فیضِ ولایت کا تاج ہے۔
شاعر کے لفظوں میں

میسر ہیں جنہیں عرفان کی آنکھیں وہ کہتے ہیں
سراپا نور و نکہت ہے ترے روضے کی گل پوشی

یہ حقیقت ہے کہ اہلِ دل کی آنکھوں میں اس منظر کی صرف رنگینی نہیں بلکہ تجلیِ نور دکھائی دیتی ہے۔
جو شخص خارِ دنیا میں الجھا ہو، وہ یہاں آ کر “گل بہ داماں” ہو جاتا ہے۔ یہی تصوف کا معجزہ ہے کہ پھولوں کے بہانے خدا دلوں کو منور کر دیتا ہے۔

عقیدت اور فیضان کا تسلسل

گل پوشی کے بعد ۴۹ میٹر کی چادرِ تطہیر کے ٹکڑے عقیدت مندوں میں تقسیم کر دیے جاتے ہیں۔ ہر زائر اس چادر کو آنکھوں سے لگاتا ہے، دل سے چومتا ہے، اور دعا مانگتا ہے۔ یہ لمحات قبولیت کے ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جو دل یہاں سے دعا لے کر اٹھتا ہے، وہ خالی نہیں جاتا۔

مکن پور کی فضاؤں میں مہکتی ولایت

جب شام ڈھلتی ہے، اور سورج مغرب کی جانب جھک جاتا ہے، تب بھی روضۂ مدار پاکؒ کی فضا میں خوشبو باقی رہتی ہے۔ پھولوں کے ذرے نور میں بدل جاتے ہیں، اور فضا میں گونجتی ہیں وہی صدائیں: دم مدار بیڑا پار

گل پوشی دراصل ظاہر میں بہار اور باطن میں دیدار ہے۔
یہ عرسِ مبارک کی روح ہے، یہ وہ لمحہ ہے جہاں پھول، نور، اور عشق، تینوں ایک نقطے میں جمع ہو جاتے ہیں۔
شاعرِ آستانۂ مدار: مصباح المرادؔ کا نذرانہ

نچھاور جس کی رونق پر زمانے کے گلستاں ہیں
وہ گلدانِ ولایت ہے ترے روضے کی گل پوشی

نہ ہم صورت کے اچھے ہیں نہ ہم سیرت کے اچھے ہیں
ہماری زیب و زینت ہے ترے روضے کی گل پوشی

یہ اشعار محض شاعری نہیں، بلکہ فیضانِ مداریت کی زبانی تفسیر ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جو مکن پور شریف کو آج بھی دارالنور بنائے ہوئے ہے۔

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment